دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کو طلاق دینا نہیں چاہتے اس صورت میں پہلی بیوی ازروئے شرع اپنے مہر کا مطالبہ بذریعہ نالش کرسکتی،اور اگر طلاق دے دی جائے تو مستحق مہر کی ہوگی یا نہیں کیونکہ اس کے والدین طلاق کو کہتے ہیں۔بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر طلاق دی جائے گی عورت مطالبہ مہر کرسکے گی ورنہ جو مہر نہ معجل بندھا ہو نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کی گئی ہو عورت قبل موت یا طلاق اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی،جبکہ وہ ناراض ہوکر اپنے میکے چلی گئی اور بلانے سے نہیں آئی تو اس کا نان و نفقہ بھی شوہر پر سے ساقط ہے جب تك وہ شوہر کے یہاں واپس نہ آئے اور شوہر پر یہ بھی لازم نہیں اسے طلاق دے،جب کہ یہ بلانا چاہتا ہے اور وہ بلاوجہ شرعی نہیں آتی تو الزام عورت پر ہے شوہر پر نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ١٧٦:                       از ریاست جاورہ ڈونکر دروازہ مرسلہ ہدایت نورخاں صاحب برادر نواب جاورہ                 ٢٤رمضان ١٣٢٦ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت اپنے زوج کی نافرمانی کرکے بلااجازت و بغیر حق مکان شوہر سے نکل کر علیحدہ بخانہ والدین کسی عزیز کے یہاں جرکر سکونت کرے جس کو اہل شرع ناشزہ کہتے ہیں، پس اس عورت کا نان ونفقہ کفیل پر دینا واجب ہوگا نہیں اور ایسی عورت میں کفیل کی کفالت وضمانت صحیح و معتبر رہی یانہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب:

زنان نشوز کانفقہ دینا نہ آئے گا یعنی جب تك وہ بے اجازت شوہر بروجہ ناحق جگہ رہے گی اتنی مدت کے نفقہ کا مطالبہ کفیل سے بھی نہیں کرسکتی کہ کفالت ضم الذمۃ الی الذمۃ فی الدین(ایك ذمہ دار کے ساتھ دوسری ذمہ دار کو قرضہ میں ملانا)یا فی المطالبۃ وھو الاصح کما فی الھدایۃ(مطالبہ میں ملانا،یہی اصح ہے جیساکہ ہدایہ میں ہے)اور ناشزہ کا نفقہ خود اصیل یعنی زوج ہی پر لازم نہیں تو کفیل سے اس کا مطالبہ کیونکر ممکن۔رہا یہ کہ اس صور ت میں کفالت نفقہ صحیح رہی یا نہیں،اگر کفالت ابتداءً بروجہ صحت واقع ہولی ہے اور وہ کسی مدت معینہ تك کے لئے نہ تھی کہ اس کی انتہا سے منتہی ہوجائے تو عورت کا ناشزہ ہونا اسے رفع نہ کرے گا،اگر عورت نشوز سے باز آکر پھر تسلیم نفس شوہر کو کردے گی تو جتنے نفقہ کی مستحق ہوگی کفیل سے اس کا مطالبہ کرسکے گی مذہب مفتی بہ میں کفالت نفقہ اگر مطلقہ ہو،ابد کے لئے ہے۔درمختارمیں ہے:

ولوکفل لھا کل شھر کذا ابدا وقع علی الابد وکذا لولم یقل ابداعند

بیوی کے لئے ہر ماہ اتنا نفقہ دائمی ہوگا،کا کوئی شخص اگر ضامن بنے تو یہ دائمًا اتنے کا ضامن ہوگا اور امام

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن