30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمیعا یہی ہے کہ جو ماہوار باہم دونوں میں رضامندی سے قرار پایا تھاجب تك کانہ ملا سب لینے کا عورت کو اختیار ہے۔درمختار میں ہے:
|
صحیح الشربنلالی فی شرحہ للوھبانیۃ مابحثہ فی البحر من عدم السقوط ولو بائنأ قال ھوالاصح ورد ما ذکرہ ابن الشحنۃ فیتأمل عندالفتوی١[1]۔ |
شرنبلالی نے وہبانیہ کی شرح میں بحر کی اس بحث کو،کہ اگرچہ بائنہ طلاق ہوتو بھی نفقہ ساقط نہ ہوگا،صحیح قرار دیا ہے،اور کہا کہ یہی اصح ہے اور ابن شحنہ نے جو ذکر کیا اس کا انہوں نے رد کیا ہے،تو فتوی دیتے وقت غور کرنا چاہئے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
بان ینظر فی حال الرجل ھل فعل ذلك تخلصا من النفقۃ اولسوء اخلاقھا مثلا فان کان الاول یلزم بھا وان کان الثانی لایلزم ھذا ماقالہ المقدسی وینبغی التعویل علیہ [2]ط۔ |
ایسی کارروائی میں قاضی کو غور کرنا چاہئے کہ کیا خاوند مثلًا یہ کاروائی نفقہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کی ہے یا واقعتا بیوی بدفطرت ہے،اگر پہلی وجہ ہوتو قاضی بیوی کے لئے نفقہ کو لازم قرار دے اور اگر دوسری وجہ ہوتو پھر لازم نہ کرے،یہ مقدسی کا بیان ہے اوراسی پر اعتمادچاہئے۔طحطاوی۔(ت) |
خزانۃ المفتین میں ہے:
|
المفروضۃ لاتسقط بالطلاق علی الاصح٣[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مقررہ نفقہ طلاق کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا اصح قول پر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ١٧٥: از سرولی ضلع بریلی مرسلہ جناب عشاق احمد صاحب مورخہ ٥ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ ایك شخص کی عورت عرصہ دو سال سے اپنے ساس اور سسر سے ناراض ہوکر میکے چلی گئی خانگی جھگڑے پر،اور وہی عورت اپنے خاوند سے رضامند ہے لیکن خاوند اس کا پانے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا اس وجہ سے وہ عورت اپنی سسرال میں نہیں آتی باوجود یکہ چند مرتبہ اس کے ساس اور سسر رخصت کے واسطے اس عورت کے مکان پر گئے لیکن نہیں آئی،اب لڑکے کے والدین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع