30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
متفرع علی الانفاق فان عدم عدم،وبالجملۃ ان کان اللازم فوجوب الانفاق لاوقوعہ فبرفع الوقوع لایرتفع الملزوم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نفقہ پر متفرع ہے کہ نفقہ معدوم ہوجائے تو حبس بھی معدوم ہوجائے تاہم اگرنفقہ کو پابندی پرلازم قرار دیا جائے تو نفقہ کا وجوب لازم اس کی ادائیگی لازم نہ ہوگی کہ ادائیگی ختم ہوجانے پرپابندی ختم ہوجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٧٣: ٣٠محرم الحرام ١٣١٩ھ
اگر کوئی شخص اپنے نکاح کے بعد یہ ظاہر کرے کہ میری زوجہ کی مادر کے ساتھ قبل نکاح سے میری آشنائی یعنی سابقہ زناکاری تھی اس واسطے میرا نکاح باطل ہوا میری زوجہ کا اس سبب سے مجھ پر کچھ حق نہیں ہے اور یہ معاملہ پندرہ پیس برس کے بعد ظاہر کرے کہ اولاد بھی زوجہ مذکور سے موجود تھی تو ایسے شخص کے واسطے علمائے دین کیا فرماتے ہیں علمائے دین کیافرماتے ہیں یعنی زوجہ اس کی دین مہر ونان ونفقہ کی مستحق ہے یا نہیں جس کے علم میں اپنے شوہر کی یہ حرکت نہ تھی۔بینواتوجروا۔
الجواب:
شوہر کے اس بیان سے نکاح کے فساد کا فورًا بحکم ہوگیا،
|
فی الدرالمختار عن الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتك فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھازلا[1]۔ |
درمختار میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنی بیوی کی ماں(ساس)سے کیا کار روائی کی ہے توجواب میں اس نے کہ میں نے اس سے جماع کیا ہے تو اسکے بیان واقرار پر بیوی اس پر حرام ہوجائے گی،اس کے بعد اس کا یہ کہنا کہ میں نے مذاق میں جھوٹ بولا قابل قبول نہ ہوگا۔ (ت) |
اس پر لازم ہوگیا کہ عورت کو فورًا جدا کردے اور عورت پر روز متارکہ سے عدت لازم ہے،جب تك عدت میں رہے گی اسکا نان و نفقہ شوہر پرلازم رہے گا،شوہر کا کہنا کہ اس کا کوئی حق مجھ پر نہیں محض جھوٹ ہے۔
|
فی ردالمحتار عن البحر الحاصل ان الفرقۃ امامن قبلہ اومن قبلھا فلو من قبلہ فلھا النفقۃ مطلقا سواء کان بمعصیۃ اولا،طلاقا او فسخا، |
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ خاوند بیوی میں فرقت خاوند کی کاروائی کی وجہ سے ہوگی یا بیوی کی کاروائی سے ہوگی اگر خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو ہر حال میں نفقہ دینا ہوگا خاوند کی کاروائی گناہ ہویا نہ ہو، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع