30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذافی البدائع،واذاحبسہ لاتسقط عنہ النفقۃ و تؤمر بالاستدانۃ حتی ترجع علی الزوج فان قال الزوج للقاضی احبسھا معی فان لی موضعا فی الحبس خالیا فالقاضی لایحبسھا معہ ولکنھا تصبر فی منزل الزوج ویحبس الزوج کذافی المحیط[1]۔ |
جیسا کہ بدائع میں ہے،اور جب قید کردیا ہوتب بھی نفقہ اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوگا،اور بیوی کو کہا جائے گا کہ وہ قرض لے کر خرچ کرے تاکہ بعد میں خاوند سے اس کو وصول کرسکے،اگر خاوند قید میں قاضی سے یہ مطالبہ کرے کہ بیوی کو قید میں میرے ساتھ رکھا جائے کیونکہ یہاں میرے پاس خالی جگہ ہے تو قاضی بیوی کو اس کے ساتھ قیدمیں نہ دے گا تاہم بیوی خاوند کے گھر میں صبر سے رہے گی اور خاوند قید ہوگا،جیسا کہ محیط میں ہے(ت) |
درمختار میں ہے:
|
وفی البحر عن ماٰل الفتاوی ولو خیف علیھا الفساد تحبس معہ عند المتاخرین[2]۔ |
بحر میں مآل الفتاوی سے منقول ہے:اور اگر بیوی کو تنہائی میں فساد کا خطرہ ہوتو متاخرین فقہاء کے نزدیك بیوی کو خاوند کے پاس قید میں رکھا جائے گا۔(ت) |
تو جب صریح نفقہ نہ دینے پر بھی عورت پابندِ شوہر رہی تو صورت سوال میں کیونکر خود مختار ہوسکتی ہے نفقہ نہ دینا رافع پابندی ہوتو نفقہ نہ دینا مسقط نفقہ ہوجائے اور عورت کو ہرگز دعوٰی نفقہ کا اختیار نہ رہے کہ نفقہ جزائے پابندی ہے جب پابندی نہیں نفقہ کس بات کا ہے۔درمختارمیں ہے:
|
النفقۃ جزاء الاحتباس وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ یلزمہ نفقتہ کمفت وقاض ووصی زیلعی [3]الخ۔ اقول: وایاك ان تتوھم ان النفقۃ اذاکانت جزاء الحبس فاذا عدمت عدم وذلك لان وجوبھا متفرع عنہ فوجوب الاحتباس علیھا متقدم علی وجوب النفقۃ علیہ لا ان الاحتباس |
نفقہ بیوی کو پابند کرنے کا بدل ہے جو کسی غیر کے فائدہ کےلئے پابند ہو اس کا نفقہ پابند کرنے والے پر ہوتا ہے جیسا کہ مفتی اور وصی،زیلعی الخ اقول:(میں کہتا ہوں)تجھے یہ وہم نہ ہو کہ جب نفقہ پابندی کی جزا ہے تو نفقہ معدوم ہوجانے پر پابندی بھی معدوم ہوجائے گی،یہ وہم اس لئے درست نہیں کہ نفقہ پابندی پر متفرع ہوتا ہے تو بیوی پر پابندی پہلے لازم ہوگی اسکے بعد شوہر پر نفقہ لازم ہوگا نہ یہ کہ پابندی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع