30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روکنے کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ نفقہ کا بار دوسرا شخص اٹھاتا اور وہ دوسرا عورت کو جانے کی اجازت دیتا ہو اس کی اجازت مہمل ہوگی اور شوہر کی ممانعت واجب العمل۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعدادائے مہر معجل عورت مطلقًا پابند شوہر ہے اس میں کوئی قید و تخصیص ادائے نفقہ و تکفل حوائج کی نہیں فرماتے۔درمختار میں ہے:
|
لھا الخروج من بیت زوجھا للحاجۃ ولھا زیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل فلا تخرج الالحق لھا او علیھا،اوزیارۃ ابویھا کل جمعۃ مرۃ او المحارم کل سنۃ اولکونھا قابلۃ او غاسلۃ لافیما عدا ذٰلک[1]۔ (ملخصًا) |
بیوی کو حاجت کے وقت خاوند کے گھر سے نکلنا جائز ہے اور اپنے گھر والوں(والدین)کی زیارت کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز جب تك اس نے مہر معجل وصول نہ کیا ہو،لہذا وہ اپنے حق کی وصولی یا اپنے ذمہ حق کی ادائیگی یا والدین کی زیارت ہفتہ میں ایك مرتبہ،اور ذی محرم کی زیارت سال میں ایك مرتبہ،دایہ گیری یا غسل دینے کے بغیر کسی اور وجہ کےلئے باہر نہ نکلے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ فلاتخرج جواب شرط مقدر ای فان قبضتہ فلاتخرج [2]الخ۔ |
ماتن کا قول"فلاتخرج"(تو باہر بہ نکلے)یہ مقدر شرط کا جواب ہے،یعنی اگر اس نے مہر معجل وصول کرلیاہوتو نہ نکلے الخ (ت) |
والد کا متکفل نفقہ پسر وزنِ پسر ہونا تو ہمارے بلاد میں معمول ہے اور دیگر بعض اعزّہ بھی تبرعًا تکفل کریں تو یہ ضرور نہیں کہ شوہر نفقہ دینے سے منکر ہوعلمائے کرام تو اس صورت میں کہ شوہر نے ظلمًا انفاق سے دست کشی کی یہاں تك کہ عورت محتاج نالش ہوئی تا آنکہ شوہر کو نفقہ دینے پر مجبور کرنے کے لئے حبس کی درخواست دی اور حاکم نے شوہر کا تعنت دیکھ کر اسے قید کردیا اس صورت میں تصریح فرماتے ہیں کہ عورت شوہر ہی کے گھر رہے بلکہ عورت پر واقعی اندیشہ فساد ہوتو شوہر قید خانہ میں اپنے پاس رکھنے کی درخواست کرسکتا ہے اور محبس میں مکان تنہا ہوتو حاکم عورت کو حکم گے گا کہ وہیں اس کے پاس رہے۔ہندیہ میں ہے:
|
لوفرض الحاکم النفقۃ علی الزوج فامتنع من دفعھا وھو موسر وطلبت المرأۃ حبسہ لہ ان یحبسہ |
اگر حاکم نے خاوند پر بیوی کا نفقہ مقررکردیا ہو اور خاوند استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دے اور بیوی خاوند کو قید کرنے کا مطالبہ کرے تو قاضی اس کو قید کرسکتا ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع