30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دفعا للضرر عنھا بحبس فان ابی ضربہ ولا یضرب فی الدین ولو قال قد کفرت صدق مالم یعرف بالکذب وفی التتارخانیۃ اذا ابی عن التکفیر عزرہ بالضرب والحبس الی ان یکفراویطلق[1]۔ |
حق ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے خاوند کو قید کرکے کفارہ دینے پر مجبور کرے اور اگر خاوند انکار کرے تو اس کو جسمانی سزادے جبکہ قرض کے معاملہ میں قاضی جسمانی سزا نہیں دے سکتا،اور اگر خاوند بتائے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو قاضی اس کی تصدیق کرے جب تك اس کا جھوٹ واضح نہ ہو،اور تاتارخانیہ میں ہے کہ اگرکفارہ دینے سے انکار کرے تو قاضی خاوند کے کفارہ ادا کرنے یا طلاق دینے تك اسے جسمانی تعزیر اور قید کرسکتا ہے۔(ت) |
جب یہ اصول معلوم ہوگئے حکمِ مسئلہ واضح ہوگیا پاس نہ بلانا ترك جماع کو مستلزم اور نفقہ نہ دینے کو بھی محتمل،ترك جماع اگر رأسا ہے یعنی بعد نکاح اس کے پاس گیا ہی نہیں تو قاضیِ شرع اس پر جبر کرے گا کہ پاس جائے،اگر ظاہر ہوگا کہ اسے اس عورت سے مجامعت پر قدرت نہیں تو بعد دعوٰی عورت وہی مسائل عنین و مہلت یکسال و تفریق جبری بطلبِ زن جاری ہوںگے،اور اگر باوصفِ قدرت نہیں جاتا خواہ ابتداءً خواہ ترك مطلق کا ارادہ کرلیا ہے اور عورت کو اس سے ضرر ہے تو قاضی مجبور کرے گا کہ جماع کرے یا طلاق دے،اگر نہ مانے گا قید کرے گا اگر نہ مانے گا مارے گا یہاں تك دوباتوں سے ایك کرے،
|
وذٰلك رفعا للمعصیۃ ودفعا للضرر وقد نصواکمافی البحر والد وغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھاففیھا التعزیر[2]وفی ردالمحتار قولہ وعلی القاضی الزامہ بہ،اعتراض بانہ لافائدۃ للاجبار علی التکفیر الاالوطئ والوطئ لایقضی بہ علیہ الامرۃ،قال الحموی و فرض المسئلۃ فیما اذالم یطأھا |
یہ تعزیر اس لئے ہے کہ خاوند گناہ ختم کرے اور بیوی کی پریشانی دور کرے،اور فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ وہ جرم جس پر حد نہیں ہے تو اس میں تعزیر ہوگی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں مذکور ہے۔اور ردالمحتار میں ہے کہ درمختار کا یہ بیان کہ قاضی پر لازم ہے الخ،یہ ایك اعتراض کا جواب ہے،اعتراض یہ ہے کہ خاوند کو کفارہ دینے پر مجبور کرنے کا مقصد صرف بیوی سے جماع ہے جبکہ جماع کے معاملے میں قاضی خاوند کو نکاح کے بعدف ایك سے زائد مرتبہ پر مجبور نہیں کرسکتا تو حموی نے کہا اور جواب کےلئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع