30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
|
قال اﷲ سبحانہ وتعالٰی فَاَمْسِکُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ۪ [1]۔ وقال تعالٰی فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ [2]۔ وقال تعالٰی وَعَاشِرُوۡہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ۚ[3]۔ وقال تعالٰ اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجْدِکُمْ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ[4]۔ وقال تعالٰی فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ؕ [5]۔ |
(اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے فرمایا:)عورتوں کویاتو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)عورتوں سے اچھے برتاؤ کے ساتھ زندگانی کرو۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھواپنے مقدور کے قابل اور انہیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)پورے ایك طرف نہ جھك جاؤ کہ عورتوں کو یوں چھوڑکر جیسی ادھر میں لٹکتی۔ |
بالجملہ عورت کو نان ونفقہ بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو،اور اسے معلقہ کردینا حرام،اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تك ترك جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز،اور بعد نکاح ایك بار جماع تو بالاجماع بالاتفاق حقِ زن ہے کہ اسے بھی ادا نہ کرسکے تو عورت کے دعوی پر قاضی مرد کو سال بھر کی مہلت دے گا اگر اس میں بھی جماع نہ ہوتو بطلبِ زن تفریق کردے گا،مگر ایك بار کے بعد پھر جبری تفریق کا قاضی کو اختیار نہیں،نہ ہمارے نزدیك نفقہ نہ دینے پر تفریق ہوسکتی ہے،ہاں قاضی اعانت ضعفاء و مددِ مظلومین کے لئے مقرر ہوا ہے،تو اس پر لازم کہ جس طرح ممکن ہودفع ظلم کرے،ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی الفتح اعلم ان ترك جماعھا |
فتح القدیر میں فرمایا:واضح ہوکہ بیوی سے جماع مطلقًا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع