30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
روئے داد فامانزد قاضی بے اقرار زن یا بینہ عادلہ رنگ ثبوت نیابد اگر خدا ناترسی کردہ بعد ابرأبد عوے پر داز قاضی بر ذمہ شوہر ثابت سازد و معاملہ باطنی ایشاں بمحکمہ قاضی حقیقی عالم الغیب والشہادۃ جل جلالہ پردہ از روئے حقیقت اندازد فالقاضی انما یقضی بالظاھر واﷲ سبحانہ یتولی السرائر آرے جائیکہ تعجیل و تأجیل مہر بہ بیان نیامدہ باشد چناں کہ غالب مہورِ ایں دیار ہمچناں مے باشد آنجا بنائے کاربر عرف دیارست وعرف عام وشائع ایں بلادبلکہ د یگر ممالك ھم ہمین ست کہ بہمچو صورت مہر نزد افتراق بموت یاطلاق حال مے شود پس پیش ازاں مطالبہ زن مسموعی ندارد کما بیناہ فی فتاوٰنا مرارا،زنائےزناں موجب بطلان نکاح آناں نیست قال تعالٰی بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِؕ[1]تاآنکہ اگر باپدر یا پسر شوہر ایں چنیں وقاحت روئے دہد ہم نکاح باطل نشود اگرچہ زن حرام ابدی گردد و متارکہ فی الفور فرض شود،فی الدرالمختار بحرمۃ المصاھرۃ |
خاوندسے ساقط ہوجائے گا اگرچہ بیوی نے اپنی خلوت میں معاف کیا ہو،لیکن قاضی کے ہاں بیوی کے اقرار یا شہادت کے بغیربراءت ثابت نہ ہوگی،اگر بیوی خداترسی نہ کرتے ہوئے معاف کرنے کے بعد قاضی کے ہاں مہر کا دعوی کردے تو قاضی خاوند کے ذمہ مہر کی ادائیگی لازم کردے گا۔تاہم دونوں کا یہ باطنی معاملہ،اﷲتعالٰی جو کہ حقیقی قاضی عالم الغیب والشہادۃہے کے دربار میں پیش ہوگا اورحقیقی فیصلہ پائے گا،قاضی تو ظاہر پر فیصلہ دیتا ہے باطنی امور تو اﷲ تعالٰی کے سپرد ہیں،ہاں اگر مہر کے معجل ہونے یا مؤجل کا فیصلہ نہ ہواہو جیسا کہ عام طور پر اس علاقے میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں معاملہ علاقہ کے عرف پر ہوگا،جبکہ اس علاقے بلکہ دیگر ممالك میں بھی یہی ہے کہ میاں یا بیوی کی موت یا طلاق کے وقت جو بھی مہر ہو وہ ادا کیا جاتا ہے اور اس سے قبل عورت کے مطالبہ کو قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا،جیسا کہ ہم نے کئی مرتبہ اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے، بیوی کے زنا سے نکاح باطل نہیں ہوتا،اﷲ تعالٰی نے فرمایا:بیدہ عقدۃ النکاح(نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے)یہی وجہ ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کے باپ یا بیٹے سے بدفعلی کرے تو بھی نکاح باطل نہیں ہوتا اگرچہ بیوی ہمیشہ کے لئے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے،اور فوری طور پر دونوں میں متارکہ فرض ہوجا تاہے۔درمختارمیں ہے کہ،حرمتِ مصاہرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع