30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کمافی التنویر وھوالصحیح کمافی الھندیۃ عن النھر آنچناں کہ دین خود معدوم ست نقل راچہ معنی فی الدرالمختار تصح فی الدین المعلوم [1]الخفی رد المحتار الشر ط کون الدین للمحتال علی المحیل [2]الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ مع جہالۃالمال [3]الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ لان کلامن الغازی والمستحق لم یثبت لہ دین فی ذمۃ الامام والناظر [4]الخ واگر براءت شوہر منظور نیست کفالت اگرچہ صحیح شد کما فی الھندیۃ من فصل النکاح ضمان المھر من صحۃ الضمان بالمھر، عند الخطبۃ قبل النکاح فراجعھا ان شئت وھوالموافق للمفتٰی بہ من قول الامام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ان الکفالۃ بالنفقۃ المستقبلۃ تصح وان لم تجب بعد کما او ضحہ فی
|
کسی کو قرض سے بری کرکے اپنے ذمے لے لینا،جیسا کہ تنویرالابصار میں ہے،اس کو ہندیہ میں نہر سے نقل کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے،تو اس صورت میں ابھی قرض معدوم ہے تو اس کو نقل کرکے دوسرے کے ذمہ کیسے کیا جاسکتا ہے، درمختار میں ہے کہ،حوالہ،معلوم قرض میں صحیح ہوتا ہے الخ،ردالمحتار میں ہے کہ،حوالہ میں یہ شرط ہے کہ قرضخواہ کا اصیل پر قرض ثابت ہو الخ،اور اس میں یہ بھی کہے،کہ،مال مجہول ہونے پر حوالہ صحیح نہ ہوگا،الخ،اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ،غازی اور دیگر مستحق شخص کے وظیفہ کا حوالہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ یہ وظیفہ حاکم اور نگران کے ذمہ ان کے لئے ثابت شدہ نہیں ہے الخ،اور اگر والد کے اس عہد ورضا سے خاوند کو نفقہ سے بری قرار دینا نہیں تھا تو یہ کفالت صحیح ہوگی(اور خاوند بری الذمّہ نہ ہوگا)کیونکہ ہندیہ میں ہے"مہر کی ضمانت پر نکاح کی فصل"میں ہے کہ،نکاح سے قبل مہر کی ضمانت صحیح ہے،اگر آپ چاہیں تو ہندیہ کی طرف رجوع کریں،اور یہ ہندیہ کابیان امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے مفتیٰ بہ قول کے موافق ہے کہ مستقبل کے نفقہ کی کفالت صحیح ہے اگرچہ یہ نفقہ ابھی واجب نہیں ہوا،جیسا کہ اس بات کو ردالمحتار میں واضح کیا ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع