30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معنیش اینست کہ اوبنا دادن نفقہ راضی شد و پیمان داد کہ تامدت تحصیل علم زن از تو نان و نفقہ نخواہد ایں رضاوپیمان خود چیزے نیست اگرچہ حسبِ اجازت زن بالغہ شدہ باشد زیرا کہ اسقاط دین پیش از وجوب معنی ندارد خاصۃً نفقہ کہ روزانہ شیأ فشیأ واجب می شود فی الدرالمختار الابراء قبل الفرض باطل و بعدہ یصح مما مضی ومن شھر مستقبل حتی لوشرط فی العقد ان النفقۃ تکون من غیر تقدیر والکسوۃ کسوۃ الشتاء والصیف لم یلزم فلھا بعد ذٰلك طلب التقدیر فیھما [1]الخ،وفی رد المحتار عن الفتح فھو اسقاط للشیئی قبل وجوبہ فلا یجوز[2]واگر مراد آنست کہ از جانب شوہر ایں دین را کفیل شدہ برذمہ خود گرفت اگرمقصود برأت شوہر ست کما ھو ظاہر الکلام ایں حوالت باشد فان الکفالۃ بشرط برائۃ الاصیل حوالہ وحوالہ نقل دین ست |
اس کا مطلب یہ تھا کہ اس دوران نفقہ نہ دینے پر راضی ہے اور عہد کرتا ہے کہ تحصیل علم کے دوران بیوی تجھ سے نان ونفقہ طلب نہ کرے گی تو والد کا یہ عہد و پیمان اور رضامندی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگرچہ بالغ بیوی کی رضامندی سے یہ معاہدہ کیا ہو کیونکہ واجب ہونے سے پہلے دین کو ساقط کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے خصوصًا نفقہ کا معاملہ جو کہ روزانہ تھوڑاتھوڑا واجب ہوتا ہے۔درمختار میں ہے کہ،مقرر ہونے سے قبل بری(ساقط)کرنا باطل ہے جبکہ مقرر ہوجانے کے بعد گزشتہ یا آئندہ ماہ کے نفقہ کو ساقط کرنا صحیح ہے،حتی کہ اگر نکاح میں یہ شرط رکھی کہ نفقہ کا تقرر نہ ہوگا اور لباس سردی اور گرمی میں ایك ہوگا تو اس شرط کا کوئی اعتبار نہ ہوگا لہذابیوی نکاح کے بعد نفقہ اور لباس کے تقرر کا مطالبہ کرسکے گی الخ۔اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کیونکہ یہ وجوب سے قبل کسی چیز کو ساقط کرنا ہے لہذا جائزنہ ہوگا،اور اگر والد کے اس عہد ورضا کا مطلب یہ تھا کہ بیوی کے نان ونفقہ کا خاوند کی بجائے میں خود کفیل ہوں گا اور میں ذمہ دارہوں گا تو اس سے مقصد خاوند کو ذمہ سے بری کرناہے جیسا کہ ظاہر ہے تو یہ عقد حوالہ ہو گا کیونکہ اصل کوبری کرنے کی شرط سے کفالت تبدیل ہو کر حوالہ بن جاتی ہے جبکہ حوالہ کا معنی یہ ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع