دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

مسئلہ١٦٥:١٢           ذی الحجہ ١٣١٤ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ہرگاہ بازید،پدر ہندہ گفت دخترم را شادی بکن زید گفت من فی الحال شادی نتوانستم چرا کہ طالب علم ہستم و حصول علم را مدتے معلوم نیست کہ بچند سال بدست آید  و قدرت نان و نفقہ اندریں مدت ندارم و پدر ہندہ دریں حالتِ اضطراری اوبہ پیش چند مرد ماں ایں ہمہ شرا ئط مذکورہ برذمہ خود قبول کردہ وراضی شدہ دخترِ او بازید نکاح کنانیدہ برائے تحصیل علوم اجازت داد،پس بعد از چند سال قبل از تحصیل علوم ازونان ونفقہ طلب کردوبریں تقدیر نان ونفقہ وغیرہ دادن بروے واجب خواہد شد یانہ واز ہندہ اگر بامرد اجنبی ازیں مدت حرام کاری وغیرہ صادر گردد در نکاح زید ثابت ماند یا نہ وبرہندہ شرعًا چہ حکم دادہ شود و شوہر ہندہ ازبدفعلی او بری کردد یانہ واگر ہندہ مہر خود عندالرضا ساقط گردد بعد ازاں عندالنزاع می گوید کہ مہرم رازوساقط نکردہ ام دعوے مہر اوبرزید شرعًا ثابت گردد یا نہ۔بینواتوجروا۔

علمائے کرام(رحمکم اﷲ تعالٰی)آپ کی کیارائے ہے،کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے باپ نے زید کو کہا کہ میری بیٹی سے شادی کرلو،زید نے کہا کہ میں فی الحال شادی نہیں کرسکتا کیونکہ میں طالبعلم ہوں اور حصول علم میں نہ معلوم کتنی مدت صرف ہو،مجھے اس مدت میں بیوی کے نان ونفقہ پر قدرت نہ ہوگی،تو اس پر ہندہ کے والد نے چند لوگوں کی موجودگی میں زید کی اس مجبوری کے حالت کی تمام ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی اور رضامندی کے ساتھ زید سے اپنی لڑکی کانکاح کردیا اور زید کو تحصیل علم کے لئے اجازت دے دی،اور اس کے چند سال بعد زید کی طلب علمی کے دوران تحصیل علم سے پہلے،ہندہ کے والد نے زید سے نان ونفقہ کامطالبہ کردیا،تو کیا اس صورت میں زید کو بیوی کانان و نفقہ دینا واجب ہوگا یانہیں،ا ور اس دوران اگر ہندہ کسی غیر مرد سے بدکاری کرے تو کیا وہ زید کے نکاح میں باقی رہے گی یانہیں اور ہندہ پر کیا حکم شرعی ہوگا اور زید اپنی بیوی کی اس بدفعلی سے بری قرار پائے گا یانہیں،اور اگر ہندہ رضامندی سے اپنا مہر معاف کردے اور بعد مخالفت ہوجانے پر کہے کہ میں نے اس کو مہر معاف نہیں کیا تو کیا اب زید پر شرعًا مہر کا دعوی کرسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

درصورت مستفسرہ اگر از جانب زن تسلیم نفس واقع شد وخویشتن رااز شوہر بناواجبی باز نداشت نفقہ اوبرذمہ شوہر لازم شد وآں کہ پدر زن پیش از نکاح آں شرائط برذمہ خود قبول کرداگر

مسئولہ صورت میں اگر بیوی نے اپنے آپ کو زید کے سپرد کردیا اور بلاوجہ رکاوٹ نہ کی ہوتو خاوند کے ذمہ اس کا نفقہ واجب ہوگا اور بیوی کے والد کا نکاح سے پہلے اس کی ذمہ داریوں کو اپنے ذمہ لینا اگر

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن