30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہیز ملك و ترکہ ہندہ ہے برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر و تقدیم دین ووصیت چھ سہام ہو کر تین سہم شوہر،دو سہم پدر،ایك مادر کوملے گا۔اسی حساب سے مہر ہندہ اگر باقی ہوتقسیم ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٦٤: ٤جمادی الاولیٰ١٣١٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو سے کیا اور پیش از نکاح ایك اقرار نامہ زید نے عمرو سے لکھوایا کہ میں بے رضامندی زوجہ کے اسے کہیں نہیں لیجا سکتا ہوں اور خود میں وہیں یعنی زوجہ کے مکان پر رہوں گا اور درصورت وعدہ خلافی میں نان نفقہ دوں گا،بعدہ نکاح ہوا اور مہر ڈھائی سو روپے کا بندھا جس میں کوئی شرط پیشگی دینے یا کسی میعاد کے قرار نہ پائی،اب عمرو اپنے خسر کے یہاں شب کو رہنا چاہتا ہے تو اس کا خسر اور خود زوجہ اسے گوارہ نہیں کرتے،عمرو کا مکان اسی شہر میں ہے وہ چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے،اس صورت میں اسے اس امر کا اختیار ہے یانہیں؟اور اگر زید نہ لے جانے دے اور ہندہ نہ جائے تومستحق نان نفقہ کی ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
بیشك صورت مستفسرہ میں زید کواختیار ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جاکر رکھے،زوجہ اوراس کے باپ کا بلاوجہ شرعی روکنا محض ظلم ہے،اور زوجہ نہ جائے گی تونان نفقہ کی مستحق نہ ہوگی،
|
لانھا ناشزۃ لامتناعھا بغیر حق وانما النفقۃ جزاء الاحتباس فاذلااحتباس لانفقۃ کما صرحوابہ قاطبۃ۔ |
کیونکہ وہ نافرمان ہے اس لئے کہ وہ بلاوجہ مانع بنی ہوئی ہے جبکہ نفقہ خاوند کے حق میں پابند ہونے کا عوض ہے تو جہاں پابندی نہیں وہاں نفقہ نہیں ہوگا جیسا کہ سب نے اس کی تصریح کی ہے(ت) |
عمرو کا اقرار نامہ لکھ دینا کہ در صورت وعدہ خلافی نان نفقۃ دوں گا کوئی چیز نہیں،
|
فان شرط اﷲ احق،ومن اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ،وان شرط مائۃ مرّۃ[1]،کماقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی کے حکم کے موافق شرط مقبول ہے اور جس نے اﷲ تعالٰی کے حکم کے خلاف کوئی شرط لگائی تو وہ ناحق ہے اگرچہ ہزار بار شرط لگائے،جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع