30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ١٦٣: ٢٦محرم الحرام ١٣١٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ سے نکاح کرکے قبل رخصت نوکری پر چلاگیا،بارہا والدین ہندہ نے رخصت کو کہا،چار برس کے بعد رخصت کراکراپنے گھر لے گیا،ہندہ بیمار تھی دو ایك دن کے بعد پھر والدین کے یہاں واپس آکر ایك ماہ بعد فوت ہوگئی،نفقہ اس چار سال کا اور جو خرچ دو اوعلاج وتجہیز و تکفین میں والدین نے کیا شوہر پر واجب ہے یانہیں؟جہیز شوہر کو ملے گا یا ماں باپ کو؟بینواتوجروا
الجواب:
نفقہ وخرچ دواوعلاج کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتا،درمختار میں ہے:
|
لاتصیردیناالابالقضاء اوالرضاء وبموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض لانھا صلۃ الااذااستدانت بامرالقاضی[1]۔ |
نفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی کا مقرر کردہ یا باہمی رضامندی سے طے کردہ نہ ہو،اور خاوند بیوی دونوں میں سے ایك کی موت یا طلاق سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ یہ صلہ کے طور پر لازم ہوتاہے،ہاں اگر قاضی کے حکم پر بیوی نے قرض لے رکھا ہو تو پھر خاوند کو اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
علیہ ماتقطع بہ الصنان لاالدواء للمرض ولااجرۃ الطبیب ولاالفصاد ولاالحجام[2]۔ |
خاوند پر بدن کی حفاظت والی چیز لازم ہے۔مرض کیلئے دوا،طبیب کی اجرت،فصد یا سنگی لگانے کی اجرت لازم نہیں ہے۔(ت) |
یونہی خرچ تجہیز وتکفین بھی مجرا نہ ملے گا جبکہ والدین خواہ کسی نے بے اذن شوہر بطور خود کیا،
|
فی اواخر وصایا ردالمحتار عن حاشیۃ الفصولین للرملی، الزوجۃ اذاصرفہ من مالہ غیرالزوج بلااذانہ اواذن القاضی فھو متبرع کالاجنبی[3]۔ |
ردالمحتار میں وصایا کی بحث کے آخر میں فصولین پر رملی کے حاشیہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے خاوند یا قاضی کی اجازت کے بغیر اس کی بیوی کو کفن دیا تو یہ خرچہ صرف کرنے والے کی طرف سے مفت ہوگا جیسا کہ کوئی اجنبی اپنی طرف سے مفت خرچ کردے (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع