30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ١٥٨: از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا چھاپہ نظام پورہ مرسلہ امراؤ بائی بنت غلام حسین حالہ ١٦رجب١٣١١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں(مسئلہ اولیٰ)ایك شخص نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کیا،چند روز بعد ایك آدمی اور ایك عورت کے ہمراہ کسی کام ضروری کے لئے کہیں بھیجا،بعد واپس آنے کے دو برس تك نان ونفقہ موقوف کردیا،کچہری گائیکواڑی میں یہ مقدمہ پیش ہے،کچہری کہتی ہے نان و نفقہ کیوں نہیں دیتا،خاوند کہتا ہے بغیر حکم میرے یہ کیوں گئی،عورت نے گواہ شاہد قوی اپنے حقیقی چچا اور چچی اور کئی آدمی کنبہ کو پیش کیا ہے سب نے یہی کہا کہ ہمارے روبرو اس کے خاوند نے اپنی عورت کو جانے کے لئے حکم دیا اور حلف بھی اٹھایا،اس صورت میں شریعت کا کیاحکم ہے؟
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں عورت کونان و نفقہ نہ دینا اس شخص کا محض ظلم ہے جس کے سبب وہ ظالم و گنہگار اور عورت کے حق میں گرفتار ہے،ا ﷲتعالٰی فرماتا ہے:
|
وَعَلَی الْمَوْلُوۡدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِؕ [1]۔ |
بیویوں کا نفقہ اور لباس بھلائی کے ساتھ اس کے ذمّہ ہے جس کےلئے اولاد ہے۔(ت) |
اوراس کا یہ بیہودہ عذر کہ"عورت بے میرے حکم کے کیوں گئی"محض باطل و ناقابلِ سماعت ہے اگر وہ اس میں سچا بھی ہوتو عورت جب بے اجازت شوہر ناحق چلی جائے تو اس کا نان و نفقہ اسی مدت تك کالازم نہیں ہوتا جب تك وہ اس ناحق طور پر باہر رہے جب پھر شوہر کے گھر چلی آئے گی اسی وقت سے نان و نفقہ دینا شوہر پر فرض ہوجائے گا،درمختارمیں ہے:
|
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق حتی تعود ولو بعد سفرہ[2]۔ |
بلاوجہ خاوند کے گھرسے باہر رہنے والی کے لئے نفقہ نہیں تاوقتیکہ وہ واپس نہ آجائے اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی باہر رہی ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لوعادت الٰی بیت الزوج بعد ماسافر |
یعنی اگر خاوند کے سفر پر جانے کے بعد بیوی خاوند کے گھر لوٹ آئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع