30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صغیرافقیرا اوزمنا[1]۔ |
بیوی کا نفقہ نابالغ کے والد کے ذمہ ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
وقد علمت ان المذھب عدم وجوب النفقۃ لزوجۃ الابن ولوصغیرافقیرا٢[2]۔ |
آپ کو معلوم ہوگیا ہے کہ نابالغ کی بیوی کا نفقہ والد کے ذمہ نہ ہونا ہی مذہب ہے اگرچہ وہ فقیر ہو۔(ت) |
رہا مہر سائل مظہر کہ اس میں کوئی شرطِ تعجیل و تاجیل نہ تھی اورلبکن میں بھی یہی رواج ہے جو یہاں عامہ بلاد میں ہے کہ قبل از افتراق بموت یا طلاق ادا نہیں ہوتا تو ہندہ کا مطالبہ مہر بیجا ہے جب تك زید اسے طلاق نہ دے یا دونوں میں کوئی مر نہ جائے۔ نقایہ میں ہے:
|
المعجل والمؤجل ان بینافذاك والافالمتعارف[3]۔ |
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی واجب ہے ورنہ عرف میں جو رواج ہو وہ واجب ہوگا۔(ت) |
اور ا س بچے نابالغ کی پرورش بیشك ذمہ زید لازم ہے،رہے گا سات برس کی عمر تك ماں کے پاس بشرطیکہ وہ اپنی بدکاری سے بازآئے اور آوارگی چھوڑچکی ہو اور نفقہ پائے گا باپ سے بشرطیکہ اپنا کوئی مال نہ رکھتا ہو اس عمر تك اجرت یا حرفت سے اپنے کھانے پہننے کے قابل کماسکے اس کی خبر گیری باپ پر واجب ہے،درمختار میں ہے:
|
تجب النفقۃ لطفلہ الفقیر[4]۔ |
چھوٹے فقیر بچے کا نفقہ والد پر لازم ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای ان لم یبلغ حدالکسب فان بلغہ کان للاب ان یوجرہ او یدفعہ فی حرفۃ لیکتسب وینفق علیہ من کسبہ لوکان ذکرا٥ [5]الخ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بشرطیکہ وہ نابالغ بچہ محنت کی عمر کو نہ پہنچا ہو،اور اگر وہ اس عمر کو پہنچ گیا ہوتو والد اس کوملازمت دلائے یا کسی کارخانہ میں مزدوری پر لگائے تاکہ اس کی کمائی کو اس پر خرچ کرے بشرطیکہ لڑکا ہوالخ،واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
[1] درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
[2] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٧٤
[3] المختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایۃ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٥٦١
[4] درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٧٣
[5] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٧٠ و ٦٧١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع