30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
جتنی مدت عورت فرار رہی اس مدت کا نفقہ تو زید پراصلًا نہیں،ہاں اب کہ واپس آئی آئندہ نفقہ کی مستحق ہے زید سے نفقہ طلب کرے،اگر دے فبہا،ورنہ قاضی کے یہاں نالش کرکے اپنا نفقہ مقرر کرالے اگر زید نادار ہے قاضی حکم دے گا کہ تو قرض لے کر صرف کر،اور جب زید کو استطاعت ہو اس سے مجرالے،
|
فی الدرالمختار لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود ولو بعد سفرہ[1]۔ |
بیوی اگر خاوند کے گھر سے باہر بلاوجہ رہائش پذیر ہو تو وہ واپس خاوند کے پاس آنے تك نافرمان قرار پائے گی اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی ایسا کرے لہذا اس کے لئے نفقہ لازم نہیں ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای فتستحق النفقۃ فتکتب الیہ لینفق علیھا اوترفع امرھا الی القاضی لیقرض لھا علیہ نفقۃ[2]۔ |
یعنی خاوند سفر میں ہواور بیوی نفقہ کی مستحق ہوتووہ خاوند کو خط لکھ کر مطالبہ کرے کہ میرا نفقہ ادا کیا جائے،یا بیوی قاضی کے ہاں درخواست کرے تاکہ قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا وبعد الفرض یامرہ القاضی بالاستدانۃ لتحیل علیہ [3]۔ |
خاوند اگر نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہوتو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی اور نفقہ مقرر کردیا ہوتو قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے گا۔(ت) |
اور زید کے باپ پر دعوٰی کا اصلًا اثر نہیں ہوسکتا کہ جوان بیٹے غیراپاہج کی زوجہ کا نفقہ باپ پر کہیں لازم نہیں،درمختار میں ہے:
|
فی الملتقی نفقۃ زوجۃ الابن علی ابیہ ان کان |
ملتقی میں مذکور ہے کہ اگر خاوند نابالغ فقیر یا اپاہج ہوتو اسکی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع