30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعدہ مضاف فتنجز بدخول الشہر وھکذا[1] . |
تك کی ادائیگی ہوتی ہے اس کے بعد اضافت ہوتی ہے اس لئے مہینہ شروع ہونے پر ہی ادائیگی ہوگی،یوں ہی جاری رہے گا۔(ت) |
اور اگر ہنوز نفقہ کے لئے کوئی تقرر وتعین نہ قضاءً ہوا نہ رضاءً تو عورت نہ ایامِ ماضیہ کا مطالبہ کرسکتی ہے نہ آئندہ کا۔ردالمحتار میں ہے:
|
لایلزمہ عما مضی قبل الفرض بالقضاء او الرضاء ولاعما یستقبل لانہ لم یجب بعد٢[2]۔ |
قاضی کی طرف سے مقرر کئے یا آپس میں مصالحت سے طے کئے بغیر سابقہ مدت کا خرچہ خاوند پر لازم نہ ہوگا اور یونہی پیشگی ادا کرنا بھی لازم نہ ہوگا کیونکہ نفقہ ابھی خاوند کے ذمہ واجب نہیں ہوا۔(ت) |
ہاں قبل از قرار داد عورت یہ اختیار رکھتی ہے کہ شوہر برضا مندی نفقہ مقرر نہ کرے تو حاکمِ شرع کے حضور قرار داد کرنے کی نالش کرے جب بحکم قاضی کوئی ماہانہ سالانہ یا روزانہ یا فصلانہ مقرر ہوجائے تو اس کے بعد اسے بہ تفصیل مذکور مطالبہ و دعوٰی پہلے گا۔تنویر الابصار میں ہے:یقدرھا ان طلبتہ [3]اھ ملخصًا(اگر عورت مطالبہ کرے تو قاضی نفقہ مقررکردے اھ ملخصًا۔ت) اور نفقہ مردوزن دونوں کی حیثیت دیکھ کر مقرر کیا جائے گا اسی قدر آمدنی زوج سے لے سکتی ہے،اگر دونوں غنی ہیں تو اغنیاء کے لائق،اور دونوں فقیر تو فقراء کے قابل،اور ایك غنی اور ایك فقیر تو متوسط یعنی نفقہ اغنیاء سے کم اور نفقہ فقراء سے زائد،مثلًا عورت کی حیثیت اطلس و زر بفت و مشجر پہننے اور بریانی و مزعفر وگوشت مرغ کھانے کی ہے اور مرد کی مقدرت چھینٹ چار خانے دال ماش نان جو کھانے کے قابل یا بالعکس تو عورت کےلئے تنزیب و گلبدن و مشروع کا لباس اور گوشت گو سپند و نان گندم مقرر کریں گے،جتنا بالفعل دے سکتا ہے دے باقی اس کے ذمے دین رہے گا یہاں تك کہ اﷲ عزّوجل استطاعت بخشے۔درمختارمیں ہے:
|
تجب علی زوجھا بقدرحا لھما بہ یفتی ویخاطب بقدروسعہ والباقی دین الی المیسرۃ [4]اھ ملخصًا۔ |
خاوندپر دونوں کی حیثیت کے لحاظ سے نفقہ واجب ہوگا،اسی پر فتوٰی دیا جائے گا،اور خاوند اپنی وسعت کے مطابق ادائیگی کا مکلف ہوگا اور باقی رہ جائے تو وہ اس کے ذمہ قرض ہوگا جس کو اپنی سہولت سے ادا کریگااھ ملخصًا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع