30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذا اذا طالبھا ولم تمتنع او امتنعت للمھر، لاخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود [1]اھ ملخصًا۔ |
گھر منتقل کرنے کا مطالبہ نہ کرے تو تب بھی خاوند پر نفقہ زوجہ واجب ہوگا،اور یوں ہی جب وہ خاوند کے مطالبہ پر اس کے گھر منتقل ہونے سے انکار نہ کرتی ہو یا وہ اپنے مہر کے مطالبہ کی وجہ سے منتقل ہونے سے انکار کر رہی ہوتو بھی خاوند پر اس کا نفقہ واجب ہوگا جبکہ خاوند کے گھرسے باہر بلاوجہ رہ رہی ہوتو نفقہ واجب نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ خاوند کے گھر واپس نہ آنے تك نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصًا(ت) |
رہا مطالبہ اگر نفقہ قضایا رضا سے مقرر ہولیا ہے تو جتنے دن بعد قرار داد بے نفقہ گزر گئے ان کا بھی مطالبہ کرسکتی ہےکما اسلفنا (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے۔ت)اور آئندہ کے لئے بھی جو میعاد تکرار نفقہ کے لئے قرار پائی ہے اس کے شروع کے بعد اسی قدر کا مطالبہ کرسکتی ہے مثلًا نفقہ ماہ بماہ دینا ٹھہرا ہوتو ہر مہینے کے شروع پر اس مہینے اور سال بسال مقرر ہوا ہوتو ہر سال کے آغاز پر اس سال کا نفقہ مانگ سکتی ہے اس سے زیادہ مثلًا چاند دیکھے یا سال پلٹے آئندہ کے دو مہینے یا دوبرس خواہ اس ماہ یا سال کا ہنوز آغاز نہ ہوا نفقہ نہیں مانگ سکتی،ردالمحتار میں ہے:
|
النفقۃ تفرض لمعنی الحاجۃ المتجددۃ فاذا فرضت کل شھر کذاصارت الحاجۃ متجددۃ بتجدد کل شھر فقبل تجددہ لایتجدد الفرض فلم تجب النفقۃ قبلہ انہ لو فرض کل سنۃ کذاصح الابراء عن سنۃ دخلت،لاعن اکثر ولاعن سنۃ لم تدخل [2]اھ ملخصًا۔ |
آئندہ کا نفقہ آئندہ نئی حاجت کی وجہ سے فرض ہوتا ہے تو جب ماہانہ خرچہ مقرر ہولے تو نئے ماہ پر گویا عورت کو حاجت بھی نئی ہوئی تو نئی حاجت سے قبل نیا نفقہ مقرر نہ ہوگا لہذاادائیگی بھی پہلے واجب نہ ہوگی،اور اگر خرچہ سالانہ طے شدہ ہوتو صرف شروع ہونے والے سال کا نفقہ لازم ہوگا،سال شروع ہونے سے پہلے کا اور سال سے زیادہ کا بھی لازم نہ ہوگااھ ملخصًا(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
الفرض فی الشھر الاول تنجز وفیما |
سال کے پہلے مہینہ میں دیا ہوا خرچہ مدت کے اختتام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع