30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورمہر میں جبکہ تعجیل و تاجیل کچھ بیان میں نہ آئی یہ نہ شرط کی جائے کہ کل اس قدر پیشگی لیا جائے گا نہ کوئی میعاد قرار پائے کہ فلاں وقت معلوم یا اتنی مدت کے بعدادا ہوگا تو اس وقت عرف ورواجِ بلد پر چھوڑا جائے گا۔نقایہ میں ہے:
|
المعجل والمؤجل ان بُیِّنَا فذٰلك والا فالمتعارف[1]۔ |
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی ورنہ عرف کے مطابق ہوگا۔(ت) |
سائل زبانی مظہر کے یہاں صورت واقعہ یونہی تھی یعنی تعجیل و تاجیل کچھ مشروط نہ ہوئی اور واقعی ہمارے بلاد میں عامہ مہور ایسے ہی بندھتے ہیں تو بحکم عرف شائع و ذائع(کہ ہرگز نہ کسی قدر مہر پیشگی دینا معہود ہے،نہ اسکے لئے کوئی میعاد معلوم متعارف ببلکہ عامہ بیوت میں موت یا طلاق تك مؤخر رہتا ہے)یہاں کی عورتیں جب تك مرگ یا طلاق سے افتراق نہ واقع ہوہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں رکھتیں،نہ قاضی کو اختیار کہ ایسی صورت میں پیش از فراق ادائے مہر پر جبر کرے،خانیہ میں ہے:
|
ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح،ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولا یحبسہ[2]۔ |
اگر مہر کی مدت مقرر ہے تو مؤخر صحیح ہے ورنہ صحیح نہیں اور قاضی باقی مہر کی ادائیگی کےلئے خاوند پر جبر نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو قید کرسکتا ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت اوالطلاق لامن وقت النکاح[3]۔ |
کیونکہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق خاوند کی موت یا طلاق کے بعد ہوگا،نکاح کرتے ہی مطالبے کا حق نہیں ہوگا۔(ت) |
اور جب تك کوئی امر مانع نفقہ مثلًا عورت کا شوہر کے گھر سے ناحق نکل جانا یا اس کے یہاں آنے سے ناحق انکار کرنا نہ پایا جائے بلاشبہہ وہ مستحقِ نفقہ وسکنی رہے گی،اسی طرح جب یہ موانع زائل ہوجائیں گے مثلًا عورت شوہر کے یہاں واپس آئے گی تو پھر بدستور مستحق نفقہ ہوجائے گی،درمختارمیں ہے:
|
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولو |
اگر بیوی اپنے والد کے گھر ہو تو خاوند اس کو اپنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع