30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالمگیری میں ہے:
|
ولوانقضت من مالھا بعد الفرض او التراضی لھا ان ترجع علی الزوج وکذا اذا استدانت علی الزوج سواء کانت استد انتھا باذن القاضی او بغیر اذنہ غیر انھا ان کانت بغیر اذن القاضی کانت المطالبۃ علیھا خاصۃ ولم یکن للغریم ان یطالب الزوج بمااستدانت وان کانت باذن القاضی لھا ان تحیل الغریم علی الزوج فیطالبہ بالدین ھکذا فی البدائع١[1]۔ |
اگر عورت نے اپنے مال میں سے صرف کیا جبکہ قاضی نے اس کا نفقہ مقرر کردیا ہو یا آپس میں عورت اور خاوند نے طے کرلیا ہوتو پھر عورت وہ صرف شدہ مال خاوند سے وصول کرسکتی ہے اور یونہی اپنے مال کی بجائے اگر اس نے خاوند کے نام پر قرض لیا ہو تو اگر قاضی کے حکم واجازت پر لیا ہو توخاوند سے وصول کرے گی اور اگر قاضی کےحکم واجازت کے بغیر لیا ہوتو قرض کا مطالبہ صرف عورت سے ہوگا قرض خواہ کو عورت کی بجائے خاوند سے مطالبہ کا حق نہ ہوگا،اور جب قاضی کے حکم اور اجازت سے عورت نے قرض لیا تو عورت کو جائز ہوگا کہ وہ اس قرض کے مطالبہ کو خاوند کے ذمہ کر دے تاکہ قرض خواہ اب خاوند سے مطالبہ کرے،بدائع میں یوں ہی بیان ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
النفقۃ لا تصیر دینا الابا لقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافاو دراہم فقبل ذٰلك لایلزمہ شیئ و بعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض[2]۔ |
عورت کا لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ صرف اس وقت ہوگا جب عورت نے وہ قرض قاضی کے حکم پر یا خود خاوند کے ساتھ مصالحت میں طے کرلیا ہو کہ فلاں جنس یا نقد اتنی مقدار ہوگی،اس سے قبل لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ نہ ہوگا،اور بعد میں عورت کا لیا ہواقرض،خواہ اپنے مال سے ہی قاضی کے حکم کے بغیر اس نے صرف کیا ہو تو خاوند سے وصول کرسکتی ہے(ت) |
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
|
لاترجع بما استقرضت بل بالمفروض فقط[3]۔ |
عورت نے نفقہ کے لئے قرض لیا تو خاوند سے اس کا مطالبہ نہیں ہوگا بلکہ خاوند سے صرف اسی صورت میں مطالبہ کرسکے گی جب قاضی کی طرف سے یا آپس میں طے کرلیا ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع