30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زجرہ عن ذٰلك ومنعہ عن التعدی فی حقھا وان ذکر وا انہ لایؤذیہا فالقاضی یترکھا ثمہ وان لم یکن فی جوارہ من یوثق بہ اوکانوایمیلون الی الزوج فالقاضی یا مرالزوج ان یسکنھا فی قوم صالحین ویسأل عن ذٰلك ویبنی الامر علی خبرھم کذافی المحیط[1]،واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
تو قاضی خاوند کو ڈانٹے اور زیادتی سے منع کرے،اور اگر پڑوسی لوگ کہیں کہ خاوند کوئی زیادتی اور اذیت نہیں دیتا تو قاضی عورت کو اسی مکان میں رہنے کا پابند کرے اور اگر عورت کے پڑوس میں کوئی قابلِ اعتماد شخص نہ ہو یا پڑوسی خاوند کے طرفدار ہوں تو پھر قاضی خاوند کو حکم دے گا کہ عورت کو نیك لوگوں کے پڑوس میں رہائش دے اور پھر قاضی اس معاملہ کے متعلق معلومات حاصل کرے اور پڑوسیوں کے بیان کو کارروائی کی بنیاد بنائے،محیط میں یوں ہی بیان کیا ہے،واﷲ تعالٰی اعلم،اوراﷲ جل مجدہ کا علم کامل اور محکم ہے(ت) |
مسئلہ١٥٥: از ڈاکخانہ سجولی ضلع بہرائچ مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ٧رمضان ١٣١٠ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایامِ عدت کا نفقہ اور سکونت کا مکان دینا بذمہ زید واجب تھا لیکن زید نے بعد طلاق ہندہ کو اپنے مکان سے نکال دیا اور نفقہ بھی نہیں دیا اس شکل میں ایام عدت کا نفقہ اور مکانِ سکونت کا معاوضہ ہندہ زید سے پاسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
عدت طلاق کا نفقہ وسکنٰی اگرچہ بذمہ زید واجب تھا اور وہ عورت کو نکال دینے سے گنہگار ہوا مگر جبکہ عدت گزر گئی اور نفقہ مفروض ومقدور نہ ہوچکا تھا تو اس کا کوئی معاوضہ ہندہ کو نہ ملے گا۔
|
فی الھندیۃ المعتدۃ اذالم تخاصم نفقتھا ولم یفرض القاضی شیأ حتی انقضت العدۃ فلانفقۃ لھا کذافی المحیط[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہندیہ میں ہے کہ جب عدت والی عورت اپنے نفقہ کے متعلق خاوند کے خلاف دعوٰی نہ کرے اور نہ ہی قاضی نے ابھی اس کے لئے کوئی نفقہ مقرر کیا ہوحتی کہ عدت ختم ہوجائے تو اب عورت کے لئے نفقہ کا استحقاق نہیں ہے،محیط میں یونہی مذکور ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع