30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بھا کحج وصلوٰۃ والتولیات کقضاء وامارۃ عینی وزیلعی[1]۔ |
دیا جاسکتا جیسا کہ حج و نماز ہے اور وہ معاملات کی ذمہ داریاں ہیں،جیسا کہ قضاء اور امارت ہے،عینی اور زیلعی۔(ت) |
ردالمحتار میں خلاصہ سے ہے:
|
انمایحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ[2]۔ |
کسی شرط کے ساتھ وہی چیزیں معلق ہونے کا احتمال رکھتی ہیں جن کا حلف دیا جاسکے۔(ت) |
اسی میں عینی سے ہے:
|
انہ لیس مما یحلف بہ فلایصح تعلیقہ بالشرط[3]۔ (تلخیصًا) |
وہ چونکہ ایسی چیز ہے جس کا حلف نہیں دیاجاسکتا لہذا اس کی کسی شرط سے تعلیق جائز نہیں تلخیصًا(ت) |
اسی میں ہے:
|
اعلم ان قولہ لایصح تعلیقہ لیس المراد بہ بطلان نفس التعلیق مع صحۃ المعلق بل المراد انہ لایقبل التعلیق بمعنی انہ یفسد بہ[4]۔ |
واضح کہ ماتن کے قول"لایصح تعلیقہ"سے مراد یہ نہیں کہ معلق شدہ چیز کی صحت کے باوجود محض معلق کرنا (نفس تعلیق)باطل ہے،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز تعلیق کو قبول نہیں کرتی لہذا وہ تعلیق کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیق سے فاسد ہوجاتی ہے(ت) |
بہر حال حکم یہی ہے کہ دستاویز مذکور مہمل و باطل اور رقیہ بیگم کو تاادائے مہر معجل اپنے ماں باپ کے گھر رہنے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دینے کا خود ہی اختیار حاصل اور بعد ایفائے تمام مہر معجل رقیہ بیگم کایہ اختیار یك لخت زائل،ہاں والدین کے یہاں آٹھویں دن بے اجازتِ شوہر بھی جاسکتی ہے کہ دن کے دن رہے اور رات کو چلی آئے۔ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر الصحیح المفتی بہ انھا تخرج |
بحر میں ہے:صحیح مفتیٰ بہ یہ ہے کہ بیوی ہر ہفتہ میں |
[1] درمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٥٤
[2] ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٢٥
[3] ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٢٢٦
[4] ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤ /٢٢٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع