30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدعیہ مسماۃ رقیہ بیگم کو اختیار حاصل ہے کہ بصورت ہونے تکلیف کے اپنے والدین کے مکان پر جاکر ہمیشہ رہے یا نہیں،اور جواز اس کا شرع سے ہے یانہیں؟
اوّل یہ تکلیف ہے نان نفقہ جو پہلے دیتا تھا نہیں دیتا باوجود مقدوری کے۔
دوسرے سخت و سست بولتا ہے۔
تیسرے بد عہدی کرتا ہے کہ حقِ زوجہ ادا نہیں کرتا ہے۔
چوتھے والدین کے مکان پر حسبِ اقرار جانے نہیں دیتا۔
پانچویں وعدہ تھا کہ مہر معجل دوں گا،اور ڈگری بھی شریعت سے ہوگئی یکمشت دلانے کی،آج تك نہیں دیا،برخلاف اس کے(ماعہ٨/)دئے ہیں باقی ہنوز بے وصول ہیں،اور یہ بھی مسمّاۃ کہتی ہے اگر مکان مسکونہ جو متصل والدین کے ہے ا س میں تکلیف ہے دیگر محلہ میں رہے تو نہیں رہنے دیتا،یہ درخواست بھی قابل لحاظ ہے یانہیں؟ مہر شریعت ناظم شریعت
نقل اقرار نامہ
میں کہ سید احمد علی بن سید اکبر علی مرحوم ساکن کالی پلٹن ام جو کہ مسماۃ رقیہ بیگم زوجہ مظہر نے نسبت میرے دعویات تکلیفات قسم قسم و زرِ مہر وغیرہ دائر عدالت شرع شریف کئے ہیں بناء براں فی الحال اقرارکرتا ہوں و لکھے دیتا ہوں کہ آئندہ کسی قسم کی تکلیف مسماۃ مذکور کو نہ دوں گا اور حسنِ سلوك خود سے سب طرح رضا مند رکھا کروں گا اگر خلاف شرع کے کوئی بات نسبت مسماۃ مذکور کروں اور زوجہ میری مجھ سے ناراض ہوتو بدل اس بدعہدی کااس صورت میں حسب تحریر معاہدہ ہذا کے مدعیہ اختیار کھتی ہے کہ اپنے والدین کے مکان پر جارہے میں مزاحمت نہیں کروں گا اور مسافرت کو نہیں جانے پائے گی،لہذا یہ چند کلمہ بطریق اقرار نامہ لکھ دئے کہ سند ہو فقط،المرقوم ١٧ذی قعدہ ١٣٠٨ہجریہ
العبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد
سید احمد علی
گواہ شد گواہ شد
منشی عبداﷲ وکیل بقلم خود نصرت یا رخاں(دستخط ہندی)
امید کہ براہ عنایت بزرگانہ اس کا جواب تحریر فرماکر تابعدار کو سرفراز فرمایا جائے۔عریضہ ادب:محمد ولی اﷲ عفا عنہ مولاہ برادر حقیقی مولوی سید ظہور ا ﷲ صاحب از ریاست ٹونک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع