کے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی
جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی نہ کہ اجنبی جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی
نہیں،بیٹی کرکے پانے سے بیٹی نہیں ہوجاتی،اس نے جو خرچ کیا اپنی اولاد بنا کر کیا
نہ کہ بطور قرض،لہذاواپسی کابھی مستحق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اپنی قیمتی آراء دینے کے لئے support@dawateislami.net پر ای میل کیجئے یا فیڈ بیک کے بٹن پر کلک کیجئے
ڈونیشن
اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیجئے، آپ کے چندے یعنی ڈونیشن کو کسی بھی جائز، دینی، اصلاحی، فلاحی، روحانی، خیرخواہی، بھلائی اور آمدنی بڑھانے کے جائز اور محفوظ کام میں لگایا جا سکتا ہے تا کہ بڑھتے اخراجات کو پورا کیا جا سکے.