30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افعال اور جبر سے نکاح ثانی جو کہ نہایت ضروری سنّت شریف ہے کہ کرنے میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں گی خصوصًا ایسی حالت میں جبکہ ہند میں اکثریہ مذموم رسم جاری ہے کہ نکاح ثانی نہیں کرتے،کیا والدہ بیچاری جس کی محبت بچے کے ساتھ اظہر من الشمس ہے خصوصًا بچہ جبکہ سات،آٹھ،نوسال ہی کا ہو اتنا بھی حق نہیں رکھتی کہ ایك آدھ مرتبہ بچے کی صورت دیکھ لے۔
الجواب:
اگر ماں دوسرا نکاح نہ بھی کرے تو لڑکا سات برس کی عمر کے بعد اس کے پاس نہ رکھا جائے گا دادا سے لے لے گا اور اگر سات برس سے کم عمر ہواور ماں دوسرا نکاح نہ کرے یا کرے تو لڑکے کے محرم یعنی چچا سے،تو لڑکا سات سال کی عمر ہیونے تك ماں کے پس رہے گا دادا نہیں لے سکتا،لیکن جب لڑکے کے نامحرم مثلًا خالو سے نکاح کر لے جیسے یہاں ہوا تو اس نکاح کرنے کو جو برا کہے گا سخت گنہگار ہوگا لیکن شوہر دوم نامحرم پسر ہونے کے سبب لڑکا ماں سے لے لیاجائے گا،یہ سب مسائل درمختار وغیرہ عامہ کتب میں مصرح ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ ماں سے بالکل تڑا لیا جائے اس سے ملنے تك نہ دیں،یہ حرام اور سخت حرام ہے۔سنن ابن ماجہ میں ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لعنہ اﷲ من فرق بین الوالدۃ ولدھا[1]۔ |
اﷲ کی لعنت ہے اس پر جو ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے۔ |
بکر پرلازم ہے کہ اس حرکت سے توبہ کرے اور بچے کو اس کی ماں سے ملنے دے اور بلاوجہ ایذائے مسلمان کا شدید وبال اپنے سر نہ لے۔صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذٰی مسلمًا اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ[2]۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزّوجل کو ایذادی۔(اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع