30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یانہیں؟ اور باپ لڑکی کا غیر مستطیع ہے فقط بینواتوجروا
الجواب:
لڑکی نوبرس کی عمر تك ماں کے پاس رہے گی بعدہ باپ کو دے دی جائے گی،اس سے پہلے جب تك ماں میں کوئی اور مسقط حضانت نہ ثابت ہوکسی کو بلاوجہ شرعی اس سے لینے کااختیارنہیں،
|
فی الدرالمختار الام والجدۃ احق بھا حتی تشتھی وبہ یفتی[1]۔ |
درمختار میں ہے کہ ماں اور دادی لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تك حقدار ہیں،اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وقدر بتسع وبہ یفتی۔[2]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مشتہاۃ اندازًا نو سال کی عمر ہے،اور اسی پرفتوٰی دیا جائیگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٥٠: از رنگون سورتی بازار دکان٢٦٨ مرسلہ شیخ عبدالستار بن اسمٰعیل صاحب ٢٦ذیقعدہ ١٣٣٦٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمر کی دو لڑکیاں زبیدہ اور ہندہ تھیں،زبیدہ کا نکاح خالد سے ہوا اور ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے دلید سے۔ولید سے ہندہ کو ایك لڑکا زید تولد ہوا،بعد کو ولید انتقال کرگیا،کچھ عرصہ بعد زبیدہ جو کہ خالد کے نکاح میں تھی گزرگئی،اس کے بھی چند اولاد ہیں،بعد ایك عرصہ کے عمرو نے سنت رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم سمجھ کر بیوہ ہندہ کا نکاح اپنی مرحولم لڑکی زبیدہ کے خاوند سے کردیا،یہ بات ہندہ کے اگلے شوہر ولید کے باپ بکر کو ناگوار گزری اور ولید کے لڑکے زید کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس لڑکے کو اس کی والدہ سے اور والدہ کے رشتہ داروں سے ملنے جلنے نہ پائے اس کا سخت بدوبست کیا اس طرف اب زید کی والدہ جو نکاح ثانی کرچکی ہے لڑکے فراق میں سخت بے چین ہے روز و شب لڑکے کو یاد کرتی ہے اس بچے سے کسی طرح بھی ملنا چاہتی ہے حتی کہ ہندہ کی صحت بھی بگڑھ چکی ہے اس سبب سے ہندہ کے والد عمرو بھی بے چین ہیں اوربہت ذریعے سے بکر سے عرض کرچکے ہیں حتی کہ ایك جلسے جماعت مسلمین میں بھی یہ طے پایا کہ بکر کو جماعت کی طرف سے عرض کیا جائے کہ زید کو اس کی والدہ ہندہ کے پاس وقتًا فوقتًا کچھ دیر ملاقات کے لئے بھیجا کرے،مگر پھر بھی نتیجہ کچھ حاصل نہ ہوا،اب سوال یہ ہے کہ فعل بکر کا جائز ہے یانہیں؟ کس طرح کے حقوق اس وقت ایك دوسرے پر ہیں،کیا بکر پر فرض نہیں کہ زید کو اس کی والدہ کے پاس صرف ملاقات کے لئے بھیجا کرے،کیا ایسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع