30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الام،ثم ام الاب، ثم الاخت،ثم الخالات،ثم العمات [1]اھ مختصرا، وفی ردالمحتار الحاضنۃ لاتجبراذالم تتعین لھا،لان المحضون حٍ لایضیع حقہ لوجودمن یحضنہ غیرھا و تجبر اذا تعنیت لعدم من یحضنہ غیرھا [2]اھ ملتقطا وتمام تحقیقہ فیہ وھذا حاصل ماوفق بہ بین نقلین مختلفین،وفی الدرالمختار الحاضنۃ اما او غیرھا احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدد بسبع وبہ یفتی و بالصغیرۃ حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی [3]اھ بالالتقاط،واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
نہ کرے یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہوتو پھر ماں کے بعدد نانی،پھر دادی،پھر بہن،پھر خالات،پھر پھوپھیاں ترتیب وار حقدار ہیں اھ مختصرًا،اور ردالمحتار میں ہے کہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیا جائے کیونکہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیاجائے کیونکہ پرورش پانے والے بچے کا حق ضائع نہ ہوگا اس لئے کہ دوسری پرورش کرنے والی موجود ہے،ہاں اگر پرورش کرنے والی واحد اکیلی ہونے کی وجہ سے وہی متعین ہے تو اس کو مجبور کیا جائے گا،کیونکہ دوسری نہ ہونے کی وجہ سے بچے کا حق ضائع ہوگا اھ ملتقطا،اس بحث ك مکمل تحقیق اسی میں ہے،یہ دو مختلف نقول میں توفیق کا حاصل ہے،درمختار میں ہے کہ پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور وہ لڑکے کی حقدار ہیں جب تك لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا،جس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائےگا،اور پرورش کرنے والی لڑکی کی حقدار ہیں جب تك لڑکی مشتہاۃ نہ ہوجائے جس کا اندازہ نَو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائے گا اھ ملتقطا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ١٤٩: ١٠جمادی الآخرہ١٣٠٧ھ
زن وشوہر میں نااتفاقی ہے ان کی لڑکی کی عمر قریب چھ برس کے ہے شوہر نے جبر کرکے اس کو ماں کے پاس سے علیحدہ کرلیا ہے اور اس کو ماں کے پاس نہیں آنے دیتا ہے،پس اس صورت میں حکم شرع شریف استفسار ہے کہ لڑکی کس کے پاس رہے اور حق ماں کو لڑکی کے رکھنے کا کَے برس کی عمر تك ہے اور باپ لڑکی کا بحالت موجود ہونے لڑکی کی ماں کے مستطیع ہے اور اس کی تعلیم اچھی طرح کرسکتی ہے"لڑکی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع