30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لے لے،جو زیور اس کے باپ نے اس کی ماں کو ہبہ کردیا ہو اس میں لڑکے کا حق نہیں ورنہ بعد فرض اصحاب فرائض باقی لڑکے کا ہے مثلًا اس کے باپ کا سوازوجہ و پدر وپسر کے کوئی وارث نہ ہوتو بعد دین ووصیت ٢٤حصے ہوکر ٣حصے زوجہ اور ٤ والد ١٧پسر کو ملیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٤٨: ٧ شعبان١٣٠٦ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور ایك لڑکا ایك لڑکی نابالغ اور ایك بیٹی بالغہ منکوحہ بیوہ اور ایك بھائی چھوڑکر انتقال کیا،زوجہ نے کہ اس بچے کی ماں ہے ایك اجنبی سے نکاح کرلیا جو ان بچوں کا رشتہ دار نہیں،لڑکا چار برس کا ہے اور لڑکی آٹھ برس کی،اس کی ماں ایك جگہ اس کا نکاح کیا چاہتی ہے،چچا وہاں راضی نہیں اپنے بھتیجے یعنی دوسرے بھائی کے پسر سے نکاح کرنا چاہتا ہے،اس صورت میں ان نابالغوں کے اختیار ماں کو ہے یا چچا کو؟ اور ان کے رکھنے کا اختیار کسے ہے؟ نابالغوں کی نانی دادی کوئی نہیں،خالہ اور دوپھوپھیاں انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ان نابالغوں کے نکاح کا اختیار چچا کے سوا کسی کو نہیں،اس کے ہوتے ہوئے ماں نکاح میں کچھ دخل نہیں رکھتی۔
|
فی تنویر الابصار لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام١[1]۔ |
تنویرالابصار میں ہے:اگر کوئی عصبہ ولی نہ ہوتو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔(ت) |
اور جبکہ وہ اپنا نکاح ایك اجنبی شخص سے کرچکی تو اسے ان بچوں کے رکھنے کا بھی اختیارنہیں،
|
فی الدرالمختار الحضانۃ للام الاان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیر محرم الصغیر [2]اھ مختصرا۔ |
درمختار میں ہے:پرورش کا حق ماں کو ہے مگر جب وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہو تو پھر نہیں اھ مختصرًا(ت) |
بلکہ لڑکا برس اور لڑکی نوبرس کی عمر تك اپنی بیوہ بہن کے پاس رہیں،اور و ہ نہ رکھے تو خالہ کے پاس،وہ بھی قبول نہ کرے تو پھوپھیوں کے پاس،
|
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتت |
درمختار میں ہے:ماں فوت ہوجائے یا بچے کو قبول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع