30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر عورت و مرد میں ضرور ہے جسے حضانت یا حفاظت جان یا مال دی جائے بچوں کے مال کو ولایت باپ کے بعد باپ کے وصی کو ہے یعنی جسے وہ کہہ کر مرا ہو کہ میری اولاد کی غور پر داخت کرنا یا کہا ہو میری جائداد کی نگہداشت کرنا،وصی نہ ہو تو وصی کاوصی،وہ بھی نہ ہو تو دادا،پھر دادا کاوصی،پھر اس کے وصی کاوصی،اور ان میں کوئی نہ ہوتو پھر وہی حکم ہے کہ ذی علم متدین مسلمان نہایت غائر نظر سے مشورہ کرکے کسی ایسے ہی مسلمان کو محافط مقرر کریں جو یتیم کے مال کو آگ جانتا ہو،اور جس شہر میں کوئی عالم دین معتمد سنّی المذہب فقیہ متدین موجود ہوتو ان امور میں رائے اسی کی معتبر ہے،اور جہاں ایسے چند عالم ہوں وہاں جو ان سب میں زیادہ علم والا ہواس پر نظر ہے،جب کوئی مستحقِ حضانت وولایت مال نہ ہوتو وہ عالم شہر اپنی رائے سے بلحاظ امور مذکورہ بچوں کی سپردگی جان و مال کے لئے رجال ونساء باوصافِ مذکورہ تجویز کرے،شریعت کی ایسی باتوں میںجہاں قاضی اسلامِ نہ ہواس عالمِ شہر کی رائے رائے قاضی اسلام کی مثل ہے،اور مسلمانوں پر اس کا اتباع لازم ہے،گونمنٹ نے معاملات مثل نکاح و طلاق وحضانت وولایت ووراثت ووصایت میں مسلمانوں کو آزادی دی ہے وہ ہرگز مجبور نہیں کرتی کہ تم ان امور کو اپنی شرع کے مطابق باہم فیصلہ نہ کر لوبلکہ وہ خود ان امور میں شریعت و فتوٰی کی طرف رجوع کرتی ہے،جہاں تك میرا خیال ہے یہ اموراسی قبیل سے ہیں،اوراگر فی الواقع ایسانہیں بلکہ آزادی کسی حد تك محدود کی گئی ہے تو جہاں تك آزادی ہے اس پر کارروائی لازم ہے واﷲ الموفق،درمختار میں ہے:
|
الحاضنۃاحق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع وبہ یفتی واحق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی[1]۔ |
لڑکے پر پرورش کرنے والی کا حق اس وقت تك ہے جب تك وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کا اندازہ سات سال عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا اور لڑکی پر اس کا حق لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تك ہے جس کا اندازہ نو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائیگا(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فی حاشیۃ البحر للرملی فی المنہاج والخلاصۃ و التا تارخانیۃ ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب غیران الانثی لاتدفع الاالی محرم[2]۔ |
بحر پر رملی کے حاشیہ میں ہے کہ منہاج،خلاصہ اورتاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگربچے کا والد نہ ہو اور بچے کی مدت پرورش ختم ہوجائے تو قریب ترین مرد عصبہ کے سپرد کیا جائیگا،مگر بچی ہو تو وہ غیر محرم عصبہ کے سپرد نہ کی جائے گی۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع