30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢)یہ کہ جملہ آمدنی ان کے حصص واقعہ میں سے اپنے صرف میں لاچکے ہیں اور ان کے مصارف کی کوئی خبر گیری نہیں کرتے۔
(٣)یہ کہ بہت سے اشیاءِ منقولہ زرِ نقد و زیورات و اشیاء خانگی جو نابالغان سے تعلق رکھتے ہیں ان لوگوں نے مخفی کرلیں اور ظاہر نہیں کیں اور دیون مورث کے وصول کرکے تصرف ذاتی اپنے میں لائے۔
(٤)یہ کہ طریقہ زندگی سوتیلے بھائیوں ان نابالغان کا ناشائستہ اورغیر مہذّب بدچلنی کے ساتھ ہے۔
سوال
حاجی محمد کفایت اﷲ متوفی نے انتقال کرکے اس شجرہ مذکورہ بالا کے مطابق ورثاء چھوڑے اب ان اولاد نابالغان زوجہ ثانی متوفیہ،فضل حق،ضیاء الحق،ریاض الحق واحمدی بیگم کا حق ولایت جان ومال ازروئے شرع شریف ان اولیاء میں سے بمقابلہ وجوہات بالا کے کس کو پہنچتا ہے:
اخ لاب۔ اخ لاب۔ اخت
لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت الاب وام۔جدہ صحیحہ۔ عمہ۔ عمہ۔
عبدالحق۔ احسان الحق۔ عجائب النساء۔ لطیف النساء۔ حبیب النساء۔ جمیل النساء۔
کریم النساء۔ اﷲ جلائی۔ نجم النساء۔صاحب النساء۔
الجواب:
حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تك رہتا ہے اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی جو عصوبت میں مقدم ہے یہاں بھی مقدم ہے بشرطیکہ فاسق بدچلن نہ ہو اس سے صغیر پر اندیشہ نہ ہو اور دختر کے لئے اس کا محرم ہونا بھی شرط۔اور سات یا نو برس کی عمر تك جو حقِ حضانت میں عورات ذوات فروض مثل مادر و خواہر پھر ذوات رحم مثل خالہ وعمہ عصبات پر مقدم ہیں ان میں شرط یہ ہے کہ صغیر کے نامحرم کے نکاح میں نہ ہوں ورنہ بچے ماں کو بھی سپرد نہ کئے جائیں گے جہاں شرائط حضانت کی جامعہ کوئی عورت نہ ہوگی،حضانت عصبات پھر ذوی الارحام ذکور کی طرف انتقال کرے گی اور دختر کے لئے وہی محرمیت ضرور ہوگی پھر اگر کوئی ذی رحم ان بچوں کے حق میں قابل اعتماد نہ ہوتو ذی علم دیندار خداترس مسلمانانِ شہر کہ کوئی بدعت کفریہ مثل نیچریت ورفض وغیرہما نہ رکھتے ہوں نہ مکذبان باری عزّوجل یامنکرانِ ختم نبوتِ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو مسلمان جانتے ہوں جمع ہوکر کسی ایسے ہی متدیّن لائق کو بچوں کی حفاظت کےلئے تجویز کریں اور لڑکیاں بالخصوص کسی ایسی ہی عورت عاقلہ امینہ قادرہ کو سپرد کی جائیں جو نامحرم کے نکاح میں نہ ہو نہ ایسوں کے یہاں رہتی ہو جن سے بچوں پر مضرت واذیت کا اندیشہ ہوا ور یہ شرط عدمِ نیچریت ورفض وغیرہ بدعات کفریہ کہ ہم نے ان رائے و ہندوں کے لئے ذکر کی مطلقًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع