30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السراجیۃ [1]اھ ملخصین،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہوگی بحر نے اسے سراجیہ سے نقل کیا ہے اھ ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤٥: از ریاست رامپور محلہ چاہ شور مرسلہ مناخاں ٢٢جمادی الاولی ٰ ١٣٢١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنی ایك زوجہ منکوحہ اور ایك پسر نابالغ اور دو لڑکیاں نابالغہ ہیں،وراثت مع الحصر چھوڑکر وفات پائی،اور بعدوفات مذکور کے اس کی منکوحہ وارثہ نے بقضاءِ الٰہی وفات پائی،اب ایك لڑکا نابالغ اور دو لڑکیا ں نابالغہ بطن مسماۃ متوفیہ سے باقی رہی،مسماۃ متوفیہ مذکورہ کا دادھیال اور نانھیال میں سے کوئی ذکور اور اناث میں سے نہیں ہے اور زید مرحوم مذکور کے دو چچا زاد بھائی ہیں اور ایك عورت حسینی کہ متوفیہ مرحومہ کو بطور فرزندی پرورش کیا تھا دعویدار ہیں کہ ولایت ان ہرسہ نابالغ صغیرہ کی ہم کو پہنچی ہے پس ولایت صغیر ان مذکوربرادرانِ زید متوفی جو چچا زاد بھائی زید کے ہیں اور وہ عورت جس نے منکوحہ کو فرزندانہ پرورش کیا تھا ان دونوں میں کس کو حسبِ شرع شریف حقِ ولایتِ نابالغان حاصل ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ پسر کی عمر گیارہ سال ہے اورایك دختر کی دس سال اور دوسرے کی تین سال،پس صورت مستفسرہ میں لڑکا جوان ہونے تك زید کے چچا زاد بھائی کے پاس رہے گا اور لڑکے اورلڑکیوں کے نکاح کرنے کی ولایت بھی بھائیوں کو ہے مگر لڑکیاں ان میں سے کسی کو سپرد نہ کی جائیں گی قاضیِ شرع پر فرض ہے کہ ان کے رکھنے کےلئے کوئی عورت صالحہ متدینہ امینہ تجویز کرے کہ تاببلوغ یا جب تك شادی نہ ہو لڑکیاں اس کی حفاظت میں رہیں اور ان تینوں نابالغوں نابالغوں کا جو مال ہے اگر ان کے باپ یا دادا کا کوئی وصی موجود ہے یعنی جسے وہ اپنے مال یا اولاد کی حفاظت و نگہداشت کی وصیت کرگئے ہوں یا وہ نہ ہوتو ایسے وصی کا جو وصی ہواس کی حفاظت میں سپرد کیا جائے ورنہ اس کے لئے بھی قاضی شرع پر فرض ہے کہ امین صالح دیندار قادر نیك مسلمان تجویز کرے جو قرآن پر سچا ایمان رکھے یتیم کے مال کو آگ جانے اور ا ﷲ ان سب حسب لینے والا ہے،رہی وہ عورت جس نے ان کی ماں کو پالا تھا ا س کا اصلًا کوئی حق نہیں،ہاں لڑکیوں کی حفاظت کےلئے اگر قاضی شرع کی رائے میں وہ عورت ہی انسب ہوتو اسے دے دے مگر نکاح یا حفاظت مال میں اس کا کوئی اختیار نہ ہوگا۔منہاج و خلاصہ و تاتارخانیہ و حاشیہ الخیر الرملی وردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع