30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا شیرخوار چھوڑا،اور شوہر اور مسماۃ متوفیہ کی پھوپھی یعنی اس کے باپ کی حقیقی بہن اور مسماۃ بہن اور مسماۃ متوفیہ کا ماموں موجود ہیں،ان سب میں کس کو ولایتِ پرورش پہنچ سکتی ہے؟ اور بحالت انکار اول حقدار کے دویم درجہ میں کس کو پہنچے گی؟
الجواب:
جبکہ اس لڑکے کی نہ نانی ہے نہ کوئی جوان بہن ہے،نہ بھانجی نہ خالہ،نہ پھوپھی نہ ماں کی خالہ،نہ باپ کی خالہ،صرف ماں کی پھوپھی ہے اور وہ بیوہ ہے۔جیسا کہ سائلوں نے بیان کیا تو اس صورت میں لڑکا سات برس کی عمر تك ماں کی پھوپھی کے پاس رہے گا اس کے ہوتے ہوئے باپ کو بھی اختیار نہیں ماں کا ماموں تو بہت بعید ہے اور جبکہ لڑکے کے باپ کی پھوپھی بھی حسبِ بیان سائلان نہیں،غرض ماں کی پھوپھی کے سوا کوئی عورت جسے حقِ حضانت ہو موجود نہیں تو ماں کی پھوپھی کو اس سے انکار کا اختیار نہیں البتہ اس پرورش کی اجرت لینی چاہے تو باپ کو دینی ہوگی۔تنویر الابصار میں ہے:
|
الحضانۃ تثبت للام،ثم ام الام،ثم ام الاب وان علت،ثم الاخت لاب وام،ثم لام،ثم لاب،ثم بنت الاخت لابوین،ثم لام،ثم الخالات،ثم العمات، ثم خالۃ الام،ثم خالۃ الاب،ثم عمات الامھات والاٰباء،بھذا الترتیب ثم العصبات بترتیب الارث۔ [1] |
پرورش کا حق ماں کو ہے پھر نانی پھر دادی کو اگرچہ اوپر والی ہوں،پھر حقیقی بہن کو پھر ماں کی طرف سے سگی بہن کو پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کو پھر حقیقی بہن کی بیٹی کو پھر ماں کی طرف سے بہن کی بیٹی کو پھر خالات کو پھر پھوپھیوں کو پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ کو پھر ماں اور باپ کی پھوپھیوں کو،اسی ترتیب سے پھر،عصبہ مردوں کو وراثت کی ترتیب پر۔(ت) |
انہیں میں ہے:
|
ولاتقدر الحاضنۃ علی ابطال حق الصغیر وان لم یوجد غیرھا اجبرت بلاخلاف وتستحق اجرۃ الحضانۃ وھی غیراجرۃ ارضاعہ ونفقتہ بحر عن |
پرورش کرنے والی حقِ صغیرکو باطل نہیں کرسکتی،اگر ماں کے علاوہ کوئی پرورش کرنےوالی نہ ہو تو ماں کو بچے کی پرورش پر مجبور کیاجائے گا،اس میں اختلاف نہیں،وہ البتہ پرورش کی اجرت کی مستحق ہوگی جو کہ دودھ پلانے کی اجرت اور نفقہ ولد کے علاوہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع