30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ردالمحتار عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اھ ملتقطا،اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ والد کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بچے کوماں کی نگرانی سے مستغنی ہوجانے کے بعد اپنی تحویل میں لے لے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤٣: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی جس کو عرصہ پانچ سال کا ہوا اور اس کا ایك لڑکا تھا وہ بھی تقریبًا پانچ سال کاہوا،اب ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا ہے،اور اس لڑکے کی نانی سوتیلی ہے اور خالہ نابالغ ہے اور اس کی دادی اور پر دادی اوردادا اور باپ موجود ہیں اس حالت میں لڑکا مذکور کس کے پاس رہنا چاہئے؟بان کیجئے۔بینواتوجروا
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ عورت نے اجنبی شخص سے نکاح کیا جو اس لڑکے کا کوئی نہیں اور نانی سوتیلی ہے،اور سگی نانی کی ماں بھی نہیں اور دادی حقیقی ہے،پس اس صورت میں ماں کو اس لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہ رہا،اور سوتیلی نانی کوئی چیز نہیں،لڑکا سات برس کی عمر تك دادی یعنی اپنے باپ کی ماں کے پاس رہے گا پھر باپ لے لے گا۔درمختار میں ہے:
|
الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیر محرم الصغیر۔[2] |
پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجاتا ہے جب وہ بچے کے غیرمحرم سے نکاح کرلے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ثم بعد الام ان ماتت اوتزوجت باجنبی ام الام وان علت ثم ام الاب [3]اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر نانی کو حق ہے خواہ اوپر والی ہو،پھر دادی کو حق ہے اھ مختصرًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤٤:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ نے انتقال کیا اور ایك لڑکا بعمر چھ سات ماہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع