30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بدائع،اھ ملتقطا۔فی الذخیرۃ[1] اھ،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم |
اس پر ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول کہ"اگرچہ اس کا مکان اور خادم ہو"یعنی جبکہ اس کو ان کی احتیاجی ہو۔یہ حکم والدین،اولاد اور ذوالارحام سب کو شامل ہے جیسا کہ ذخیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے اھ،واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤٢: ١٩ربیع الاول شریف١٣١٥ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی زید نے ہندہ کو طلاق دی اور ایك پسر شیر خوار جو زید کو نطفے سے ہے واسطے پرورش کے ہندہ کے پاس چھوڑا اور اس کی پرورش کے واسطے ماہانہ مقرر کردیا اب وہ لڑکا بعمر تین برس کچھ ماہ کے ہواہندہ نے نکاح ایك شخص سے کرلیا اب وہ لڑکا زید کو مل سکتا ہے یانہیں،اور اگر مل سکتا ہے تو کس عمرمیں؟اور ہندہ کو اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر شوہر کے یہاں چلی گئی وہ عورت ہندہ کی مادر حقیقی نہیں ہے تو زید کے مقابلہ میں ہندہ کے ماں باپ کو استحقاق پرورش پسر مذکور حاصل ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ ہندہ نے جس شخص سے نکاح کیا وہ لڑکے کا محرم نہیں بلکہ اجنبی شخص ہے اور ہندہ کی ماں اور نانی مرگئیں،باپ اورسوتیلی ماں،اور ہندہ کی سگی دادی خود کی سگی دادی زندہ ہیں،پس صورت مذکورہ میں ہندہ کے باپ یا سوتیلی ماں کو لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہیں بلکہ سات برس کی عمر تك اپنی دادی کے پاس رہے گا بعدہ باپ لے لے گا ماں کی دادی بھی لڑکے کی دادی کے ہوتے نہیں رکھ سکتی۔
|
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتت اوتزوجت بالجنبی ام الام ووان علت عند عدم اھلیۃ القربی، ثم ام الاب وان علت بالشرط المذکورواما ام اب الام فتؤخر عن ام لاب بل عن الخالۃ ایضا بحر، و الام احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی [2]اھ ملتقطا،و |
درمختار میں سے کہ ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی غیر محرم سے نکاح کرلے تو ماں کے بعد نانی خواہ اوپر والی ہو جبکہ کوئی قریبی عورت پرورش کا حق نہ رکھتی،پھر دادی خواہ اوپر والی ہو مذکورلہ شرط کے ساتھ،لیکن ماں کی دادی تو وہ بچے کی دادی بلکہ اس کی خالہ سے بھی مؤخڑ ہے،بحر۔ماں لڑکے کی حقدار ہے جب تك لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہ ہوجائے جس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائیگا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع