30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المیراث فان کان احدھم معسرا لایجعل کالمیت و یعتبر فی التقسیم ثم یخرج من البین کما یفعل فی الخارج وحِ یتضح لك ماذکرنابتوفیق اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی،واﷲتعالٰی اعلم۔ |
کرکے تمام وراثت کو حاصل کرسکے تو ان میں سے اگر کوئی تنگدست ہوجائے تو اس کو مردہ(کالعدم)نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ اس کو تقسیم میں باقی اور شامل تصور کرکے درمیان سے الگ کردیا جائے گا،جیسا کہ وراثت کی تقسیم میں کسی کو الگ کردیا جاتا ہے،تو اب وہ بات واضح ہوگئی جو ہم نے ذکر کی ہے اﷲسبحٰنہ کی توفیق سے،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤١:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور مادر اس کی،اور طفل شیر خوار اس نے چھوڑا اور شوہر بھی اس کا باقی رہا لیکن کوئی شخص ماں یا بہن یا پھوپھی وغیرہ شوہر ہندہ کا نہیں رہا ہے کہ پرورش اس طفل شیر خوار گی کی کرے،نانی اس طفل مذکور کی پرورش کرتی ہے اور باپ اس طفل کا نہیں چاہتا ہے کہ نانی کے پاس وہ لڑکا رہے،تو اس حالت میں وہ لڑکا باپ کو عندالشرع دلایا جائے گا یا نانی کے پاس رہے گا؟ اور اسباب و ظروف وغیرہ کہ ہندہ متوفیہ کا جہیز ہندہ نے پایا تھا وہ بھی شوہر اس کے نے اپنے تصرف میں کرلیا تو وہ مال واسباب متصرفہ شوہر ہندہ ملك اس پسر صغیرہ کی ہوگا یا اس کے باپ کے قبضہ میں رہے گا اور مصارف نان ونفقہ ایامِ رضاعت کا کس کے ذمہ چاہئے،بینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں سات برس کی عمر تك پسر کی پرورش ان کی نانی کا حق ہے،باپ بلاوجہ شرعی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا،
|
فی الدرالمختار الحضانۃ تثبت للام ثم ام الام والحاضنۃ امااو غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی اھ [1] ملتقطا۔ |
درمختار میں ہے:پرورش کا حق ماں کو پھر نانی کو ہے،اور پرورش کرنے والی عورت لڑکے کی اس وقت تك حقدار ہے جب تك وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کی مدت اندازًا سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا، اھ ملتقطا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع