30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تربیت زیادہ بہتر جانتے ہیں اھ خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ جب لڑکا مستغنی ہوجائے تو اس کے عصبہ مرد قرابت کے لحاظ سے درجہ بدرجہ اس کے حقدار ہوں گے اھ ملخصًا،واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ١٣٨: ٢٧شعبان ١٣١٢ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق حضانت اور پرورش اطفال صغیر سن کابعد وفات ماں کے کس کو ہے؟ اور ماموں چچامیں کس کو ترجیح ہے؟ اور وہ حق کس عمر تك رہتا ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ اطفال لڑکیاں ہیں،ان کے باپ،بھائی،بھتیجا،بہنیں،نانی،ماموں،چچا حقیقی ہیں،ایك لڑکی نوبرس کی ہے ایك گیارہ کی،پس صورتِ مستفسرہ میں نانی ماموں کو ان کے رکھنے کا کچھ اختیار نہیں،لڑکیاں اپنے چچا کے پاس رہیں گی کہ جب نوبرس کی ہوجائے تو ماں بھی اسے نہیں رکھی سکتی چچاکو دلادی جائے گی،نانی وغیرہا تو دوسرا درجہ ہے۔درمختار میں ہے:
|
الام والجدۃ لام اولاب احق بالصغیرۃ حتی تحیض وغیرہما احق بہا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذٰلك وبہ یفتی[1]اھ ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ماں نانی اور دادی لڑکی کی حقدار اس کو حیض آنے تك ہیں اور دوسری عورتین لڑکی مشتہاۃ ہونے کت حقدار ہیں،اور مشہتاۃ کا اندازہ ٩ سال کی عمر لگایا گیا ہے،اسی پر فتوٰی دیا جائے گا،اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ ماں نانی اور دادی کا بھی یہی حکم ہے اھ ملخصًا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٣٩: از میران پور کٹرہ کما ل زئی شاہجہان پور مرسلہ نادر خاں صاحب رئیس کٹرہ ١٨ذیقعدہ١٣١٢ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرو صغیرہ جن کی ماں انتقال کرگئی اور باپ نے دوسرا نکاح کرلیا نانا،ماموں، ممانی اور خالہ زاد اور پھوپھی زاد نانیاں اور نانیوں کی بیٹی بیٹیاں ہیں بچے نانا کے پاس ہیں باپ ان سے بالجبر لینا چاہتا ہے حالانکہ بوجہ نکاح ثانی اس کے پاس بچوں کی مضرت جان کا اندیشہ ہے،اس صورت میں حقِ پرورش اطفال کس کو ہے؟ پوری تفصیل درج ہو کہ حقِ حضانت ترتیب وار کس کو ہے اور پرورش کنندہ کے پاس کس عمر تك رہیں گے؟ بینواتوجروا
الجواب:
حقِ حضانت ذی رحم محرم کے لئے ہے یعنی وہ نسبی رشتہ جس میں نکاح ہمیشہ کو حرام ہوتا ہے تو نانی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع