30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حٍ للفتیافان نشوھا فی حضن امھا خیر لھا والنظر من ترکھا ضائقۃ لاحاضن لھا وقد علمت ان لاحق لغیر محرم فی حضانتھا۔
|
روایت ہی فتوٰی کے لئے متعین ہے کیونکہ اس صورت میں بچی کا اپنی ماں کے پاس نشوو نما پانا بہتر ہے اورماں کو چھوڑنے میں بچی پر کمزور شفقت ہوگی جبکہ اس کا کوئی پرورش کرنے والا محض نہ ہو حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ غیر محرم کو بچی کاحقِ حضانت نہیں ہے۔(ت) |
اور ان پانچوں نابالغوں کے نکاح کی ولایت عمروہی کوہے لان العصبۃ لاغیر(کیونکہ ان کے علاوہ کوئی عصبہ نہیں۔ت)اور ماں کی ولایت ان مذکورین میں سے کسی کو نہیں لاختصاصھا بالاب ووصیہ والجد ووصیہ والحاکم الشرعی(یہ ولایت باپ اور اس کے وصی یا دادا اور اس کے وصی اور شرعی حاکم کے ساتھ خاص ہے۔ت)ہاں اگر زید ان لوگوں خواہ ان کے غیر میں سے کسی کو اپنی جائداد کے حفظ و نگہداشت یا اولاد کے غور و پر داخت کے لئے کہہ گیا ہوتو ولایتِ مال اسے ہوگی لکونہ وصیاعلیھم(کیونکہ وہ ان پر وصی مقر رہوا۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٣٦: ٣٠ذیقعدہ ١٣٠٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عباد اﷲ ایك زوجہ اور ایك پسر نابالغ اور ایك چچازاد بھائی فیض اﷲ چھوڑ کر فوت ہوا،عورت نے ایك اجنبی شخص سے نکاح کرلیا جسے اس نابالغ سے کوئی علاقہ نہیں،اس بچے کی نہ نانی ہے نہ دادی ہے نہ کوئی بہن ببلکہ سوتیلی خالہ اور سگی پھوپھی ہے،اس صورت میں یہ بچہ جس کی چار برس کی عمر ہے کس کے پاس رہے گاا ور اس کے مال کی ولایت فیض اﷲ کو ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب :
جبکہ نابالغ کی ماں نے ایك اجنبی سے نکاح کرلیا،اب اسے نابالغ کے رکھنے کا اختیار نہ رہا ایك سات برس کی عمر تك سوتیلی خالہ کے پاس رہے گا،اگر وہ نہ مانے گی تو پھوپھی کے پاس رکھا جائے گا اور اگر وہ بھی انکار کرے گے تو جبرًا خالہ کے پاس رہے گا،یہ سب اس صورت میں ہے کہ خالہ اور پھوپھی دونوں میں کوئی مانع حضانت نہ ہو ورنہ اگر ایك میں مانع حضانت ہو تودوسرے کے پاس رہے گا،سات برس کے عمر بعد جوان ہونے تك فیض اﷲ کے پاس رہے گا،
|
فی الدر المختار الحضانۃ للام الاان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیرمحرم الصغیر[1]الخ۔ |
درمختار میں ہے بچے کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے مگر یہ کہ وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیر محرم سے نکاح کرلے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع