30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یثبت النسب[1]۔ |
ثابت ہوجاتا ہے۔(ت) |
معراج الدرایہ پھر نہرالفائق پھر ردالمحتار میں ہے:
|
الصحیح انھا شبھۃ عقد لانہ روی عن محمد انہ قال سقوط الحد عنہ لشبھۃ حکمیۃ فیثبت النسب و ھکذا ذکر فی المنیۃ[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
صحیح یہ ہے کہ یہ شبہہ نکاح ہے کیونکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اس سے حد کا سقوط حکمی شبہہ کی بناء پر ہے،لہٰذا نسب ثابت ہوگا،منیہ میں یونہی ذکر کیا ہے۔ |
مسئلہ١٣٢: از اندور رانی پورہ مسئولہ واحد ملا ١٥محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام وفضلائے عظام اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ہے،ہندہ نے ساتویں ماہ عقد کیا بکر کے ساتھ،اور ہندہ کو پانچ چھ ماہ کا حمل تھا،بروقتِ نکاح ہندہ نے حمل کو ظاہر نہ کیا،بعد عقد ایك ماہ کے ہندہ اور بکر میں جھگڑا ہوا کہ حمل کس کا ہے،بکر کہتا ہے میرا حمل ہے اور ہندہ کہتی ہے تیرا نہیں ہے،تو یہ نکاح جائز ہے یانہیں؟اور یہ حمل کس کا قائم ہوگا؟بینوا توجروا
الجواب:
اگر موتِ شوہر اول سے دوسال کے بعد بچہ پیدا ہوتو شوہر دوم کا ہے اور نکاح صحیح ہے اور دو سال سے کم میں پیدا ہوتو لڑکا پہلے شوہر کا ہے اور اس دوسرے کا نکاح باطل،کما یظہر مما لخصناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ردالمحتار پر حاشیہ میں ہم نے اس کی تلخیص کی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٣٣: ازکریلی ضلع بریلی مسئولہ ٧رجب ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدت حمل کی زائد سے زائد کَے برس ہے؟اور کم سے کم کتنے سال ہیں؟بینوا توجروا
الجواب:
کم سے کم چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ دوسال کامل بے کم و بیش،مگر عورت جس کا شوہر زندہ ہواگرچہ کتنے ہی برسوں سے اس سے کتنا ہی دور ہو،اس کی اولاد شوہر ہی کی اولاد قرار پائے گی،اس کے لئے دس بیس پچاس سال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع