30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باب النفقۃ |
٤١٥ |
جس اسقاط کی قسم نہیں کھائی جاسکتی اس کی تعلیق صحیح نہیں۔ |
٤١٨ |
|
مطلقہ حاملہ ہو تو عدت وضع حمل ورنہ تین حیضوں کا آکر ختم ہوجانا ہے۔ |
٤١٥ |
عورت آٹھویں دن اپنے والدین کے یہاں بے اذن زوج بھی جاسکتی ہے۔ |
٤١٩ |
|
مطلقہ کا نفقہ عدت کے بغیر شوہر پر واجب نہیں۔ |
٤١٥ |
والدین کے علاوہ دیگر محارم کی زیارت کو عورت سال میں ایك مرتبہ جاسکتی ہے چاہے شوہر اجازت دے یا نہ دے۔ |
٤٢٠ |
|
نفقہ عدت کے تابع ہے۔ |
٤١٥ |
ظالم شوہر کے ظلم سے بچنے کے لئے عورت کو انتقال سکونت کے مطالبہ کا حق ہے۔ |
٤٢٠ |
|
شوہر کو عورت کے اپنے پاس رکھنے کا حق شرعا حاصل ہے،اس حق کو خود شوہر بھی کسی اقرار نامہ کے ذریعہ باطل نہیں کرسکتا۔ |
٤١٧ |
ایام عدت کا نفقہ شوہر نے ادا نہ کیا اور عدت گزر گئی تو وہ ساقط ہوگیا۔ |
٤٢١ |
|
شوہر کو حق حبس زوجہ،مہر معجل کی ادائیگی کے بعد حاصل ہوتاہے۔ |
٤١٧ |
زوجہ کو بلاوجہ تکلیف دینا ایك گناہ ہے اور دوسری زوجہ سے کم رکھنا دوسرا گناہ شدید جس کی تحریم پر قرآن وحدیث ناطق ہے۔ |
٤٢٢ |
|
ہر وطی معقود علیہ ہے۔ |
٤١٧ |
عورت نے اپنے نفقہ کے لئے باہمی تراضی یا قضاء قاضی کے بغیرجو قرض لیا اس کی ذمہ دار وہ خود ہے اور تراضی یا تقریر قاضی کے بعد اگر اپنے مال سے بھی خرچ کرے تو اس کو شوہر سے وصول کرسکتی ہے۔ |
٤٢٢ |
|
تسلیم بعض موجب تسلیم باقی نہیں۔ |
٤١٧ |
جہاں مہر میں تعجیل یا تاجیل کچھ مذکور نہ ہو تووہاں حکم عرف رواج کے مطابق ہوگا۔ |
٤٢٤ |
|
مہر معجل نہ ادا ہو تو عورت شوہر کو انتفاع اور رخصتی سے روك سکتی ہے اور اس صورت میں ناشزہ نہ ہوگی۔ |
٤١٨ |
ہمارے بلاد میں عامہ مہوریوں بندھتے ہیں کہ ان میں تعجیل وتاجیل کچھ مشروط نہیں ہوتی تو بحکم عرف شائع وذائع یہاں کی عورتیں جب تك مرگ یا طلاق سے افتراق نہ واقع ہو ہرگز مطالبہ مہرکااستحقاق نہیں رکھتیں نہ قاضی کو اختیار کہ ایسی صورت میں پیش از افتراق ادائے مہر پر جبر کرے۔ |
٤٢٤ |
|
اسقاط کے لئے پہلے ثبوت درکار ہے جو شیئ ہنوز ثابت ہی نہیں ساقط کیا ہوگی۔ |
٤١٨ |
عورت جب تك ناشزہ نہ ہو مستحق نفقہ ہے۔ |
٤٢٤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع