30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك عورت سے زنا کیا پھر اس کی لڑکی سے نکاح کیا اس سے لڑکا ہو ا تو وہ شخص اس وقت بھی زانی ہوا اور اس نکاح میں بھی حرام کار کہ یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہے،اور اب یہ جو لڑکا پیدا ہوا ولدالحرام ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٣١: از شہر بریلی مدرسہ اہلسنت و جماعت مسئولہ طالبعلم مدرسہ مذکور ٢٣شوال ١٣٣٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی علاتی اخت کی نواسی کے ساتھ چھ برس ہوئے نکاح کیا تھا اس سے ایك لڑکی ہوئی،اب زید کو اور محلہ کے لوگوں کو معلوم ہو ا کہ زید کا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا زید سے تفریق کرادی،زید کا یہ نکاح صحیح ہو ایانہیں تو اس لڑکی کا مستحق کون ہے،مہر لازم ہو ایانہیں؟عدت ہوگی یانہیں؟اور اس نکاح کے وکیل و گواہ اور پڑھانے والوں کا کیاحکم ؟اور زید پر کیا حکم؟باوجود اس کے کہ بے علم ہیں۔
الجواب:
نکاحِ مذکور حرام حرام قطعی حرام،اور زیداور نکاح خواں ووکیل و گواہ سب سخت تر گناہ کبیرہ میں گرفتار،اور جہل اس کے گناہ کبیرہ ہونے سے خارج نہ کرے گا بلکہ جہل خود دوسرا گناہ کبیرہ ہے،ولہذا حدیث میں ہے:
|
ذنب العالم واحد وذنب الجاھل ذنبان[1]۔ |
عالم کا گناہ ایك گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ۔ |
عورت پر ضرور عدت لازم ہے اور زید پر پورا مہر مثل واجب ہے یعنی اس طر ح کہ عورت کا مہر مثل کیا ہے وہ جو باندھا
تھااس کا لحاظ نہ ہوگا چاہے مہر مثل سے کم ہو یا زائد،فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
اذا تزوج بذات رحم محرم منہ ودخل بھا لاحد علیہ وعلیہ مھر مثلھا بالغاما بلغ [2]۔(ملخصًا) |
جب کسی نے ذی رحم محرم عورت سے نکاح کرکے جماع کرلیا تو اس پر حد نہیں(بلکہ تعزیر سخت ہے)اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگا(ملخصًا)۔(ت) |
لڑکی زید ہی کو دلائیں گے،٩برس کی عمر ہونے تك ماں کے پاس رہے گی اور اگر وہ کسی ایسے سے نکاح کرے جو اس لڑکی کا محرم مثل چچا کے نہ ہو،اس کے بعد باپ یعنی زید لے لے گا۔درمختار کتاب الحدود میں ہے:
|
انھا من شبھۃ المحل وفیھا |
یہ محل کا شبہہ ہے اور اس میں نسب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع