30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان جاءت بہ لاکثر من سنتین منذطلقھا الاول اومات ولاقل من ستۃ اشھر منذتزوجھا الثانی لم یکن للاول ولاللثانی وھل یجوز نکاح الثانی فی قول ابی حنیفۃ ومحمد جائزاھ[1]۔وتأمل فی ھذا الجواز فی رد المحتار فراجعہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
پہلے خاوند کی موت یا طلاق کے بعد دوسال سے زائد عرصہ پر عورت نے بچے کو جنم دیا ہو یا دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے اندر جنم دیا ہو تو اس بچے کا نسب نہ پہلے سے ہوگا نہ دوسرے سے۔اور کیا اس صورت میں دوسرا نکاح صحیح پائے گا،تو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیك جائز قرار پائے گااھ،ردالمحتار میں اس جواز پر تأمل کیا ہے،اس کی طرف رجوع کرو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٢٩تا۱۳۰: از گوپندگڑھ ضلع اجمیر شریف مسجد خورد مرسلہ فیض محمد صاحب امام مسجد ١٨شوال١٣٣٨ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١)ایك شخص ایك عورت کو فرار کرکے لے گیا،عورت کاخاوند زندہ ہے،وہ عورت مرگئی اور وہ شخص واپس چلاآیا،ا س عورت کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی پیداہوئی،اب ان بچوں اور اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے،اس کے ساتھ مصافحہ اور کھانا کھانا کیسا ہے؟
(٢)ایك شخص نے اپنی ساس سے زنا کیا اور حمل رہا،لڑکی ہوئی اور پھر شادی کی،اس شادی سے لڑکا ہوا،اس لڑکے پر کیا حکم ہے؟
الجواب:
(١)صورت مذکورہ میں وہ شخص زانی ہے،سزائے زناء کا سزا وار اور مستحق عذاب نار ہے،مسلمان اگر اس سے سلام کلام نہ کریں،اس کے ساتھ کھانا نہ کھائیں،اس سے مصافحہ نہ کریں تو وہ ضرور اس قابل ہے جب تك توبہ نہ کرے،شوہر اور عورت کے بچے اس کے شوہر ہی کے ہوتے ہیں۔صحیح حدیث میں فرمایا:
|
الولد للفراش وللعاھر الحجر[2]۔ |
بچہ اس کا جس کا بچھونا یعنی خاوند کا اور زانی کے لئے پتھر۔ |
(۲)جس نے اپنی ساس سے زنا کیا اس نے اپنی ماں سے زنا کیا،اور شادی اگر کسی اور عورت سے کی اور اس سے لڑکا پیدا ہواتو اس لڑکے میں کوئی خلل نہیں،اور اگر سائل کا مطلب یہ ہے کہ ایك شخص نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع