30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الولد عنہ بعد ماقال فرقت بینکما وفی المبسوط ھذا ھوالصحیح[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اعلان کرے کہ میں نے اس بچے کا نسب اس شخص سے منقطع کردیا ہے،یہ اعلان وہ تفریق کرنے کے بعد کرے۔اور مبسوط میں ہے کہ یہی صحیح ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ١٢٦: ازریاست جے پور نمك منڈی اجمیری دروازہ مرسلہ محمد عبدالعزیز بیگ ٢١شعبان ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے دختر رابعہ پیدا ہوتے ہی ہندہ کا انتقال ہوگیا چنانچہ مسماۃ رابعہ نے ابتدائے پیدائش خود سے ڈیڑھ سال کامل ایامِ رضاعت میں مسماۃ شافیہ وکافیہ کا دودھ پیا' اتفاق سے مسماۃ شافیہ و کافیہ کے حقیقی بھائی مسمی بزید سے مسماۃ رابعہ کا عقد ہوکر اولاد بھی ہوگئی(حالانکہ مسمی بزید ومسماۃ رابعہ زن و شوہر باہمی رضاعی ماموں وبھانجی ہوتے ہیں)تو ایسی صورت میں نکاح قائم رہ سکتا ہے یانہیں ؟اور بصورت قائم رہنے کے کفارہ عائد ہوگا یانہیں؟ اور اولاد کس کی کفالت میں رہے گی اور بارِ مہر زوج پر عائد ہوگا یانہیں؟
الجواب:
حاشا وہ خبیث نکاح ہرگز قائم نہ رکھا جائے گا،مردو عورت پر فرض فرض عظیم فرض ہے کہ فورًا فورًا جدا ہوجائیں،مرد نہ مانے تو عورت خود جدا ہوجائے،دونوں نہ مانیں تو حاکم بالجبر جدا کردے گا۔عورت کےلئے مرد پر پورا مہر مثل ہے اگرچہ جو مہر بندھا تھا اس سے کتنا ہی زائد ہو،اولاد میں لڑکا سات برس اور لڑکی نوبرس کی عمرتك ماں کے پاس رہے پھر باپ لے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
|
فی الخانیۃ لوتزوج محرمہ لاحد علیہ عند الامام علیہ مھر مثلھا بالغامابلغ[2]۔ |
خانیہ میں ہے اگر کسی نے اپنی محرم سے نکاح کیا تو اس پر حد نہیں(بلکہ سخت تعزیر ہے)اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگا،یہ امام اعظم کے نزدیك ہے۔(ت) |
اسی میں نہر سے ہے:
|
قال فی الدرایۃ الصحیح انہا شبھۃ عقد فیثبت النسب وھکذاذکرفی المنیۃ٣ [3]اھ |
درایہ میں ہے کہ یہ شبہہ نکاح ہے لہذا نسب ثابت ہوجائے گا،منیہ میں بھی یونہی مذکور ہے اھ ملخصًا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع