30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النکول عند غیرہ لایعتبر،ط،[1]اھ ۔اقول: ھو مستفاد من قولہ فان ابی رفعتہ فلم یجعل اباءہ عندھا شیأ۔ |
کیونکہ قاضی کے علاوہ کسی غیرکے ہاں انکار کرے تو وہ انکار تفریق کےلئے معتبر نہیں ہوگا،ط،اھ۔اقول:(میں کہتا ہوں) یہ بات ماتن کے اس قول سے عیاں ہورہی ہے کہ"اگر گھرمیں انکار کرے تو بیوی حاکم کے ہاں معاملہ کو پیش کرے"تو انہوں نے بیوی کے ہاں انکار کو غیر معتبر قرار دیا۔(ت) |
ہاں اگر وہ اقرار کرے کہ(اس)کی ضمیر عورت کی طرف تھی اور یہ لفظ قطع تعلق نکاح ہی کی نیت سے کہے تو بیشك ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی،اور اب بچہ اسی شوہر کو ایسا لازم ہوگیا کہ اس سے چھوٹ ہی نہیں سکتا کہ بینونت کے بعد احتمال لعان بھی نہ رہا جو حاکم اسلام کے حضور ہوسکتا اور جب اس کے بعد قاضی ان زن وشو میں تفریق کرکے بچے کی نسبت اس شوہر سے قطع کردیتا اس کا نہ ٹھہرتا مجہول النسب رہ جاتا،درمختار میں باب اللعان میں ہے:شرطہ قیام الزوجیۃ[2] (لعان کی شرط یہ ہے کہ نکاح موجود ہو۔ت)اسی میں ہے:
|
ویسقط بعد وجوبہ بالطلاق البائن ثم لایعود بتزوجھا[3]۔ |
لعان واجب ہوجانے کے بعد بائنہ طلاق دے دینے پر ساقط ہوجائے گا،اور دوبارہ نکاح کرنے پر بھی لعان نہ ہوسکے گا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وان قذف الزوج بولدحی نفی الحاکم نسبہ عن ابیہ والحقہ بامہ[4]۔ |
جب خاوند بیوی پر تہمت لگائے کسی زندہ بچے کے بارے میں،تو حاکم اس بچے کے نسب کو اس خاوند سے منقطع کردے اور بچے کو ماں سے ملحق کردے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای لابد ان یقول قطعت نسب ھٰذا |
یعنی قاضی کے لئے اس موقعہ پر ضروری ہے کہ وہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع