30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غاربک،وفی الایضاح وشرح الجامع الصغیرلشمس الائمۃ ذکر خمسۃ ھی ھذہ الاانہ ذکر مکان حبلك علی غاربك فارقتک،فتتم ستۃ الفاظ ووجہ احتمالھا السب ان لاملك لی یعنی انت اقل من ان تنسبی الی بالملک، ولاسبیل لی علیك لزیادۃ شرک،وخلیت سبیلک، وفارقتك والحقی باھلک،وحبلك علی غاربك ای انت مسیئۃ لایشتغل احد بتأدیبك اذلا طاقۃ لاحد بمما رستک[1] اقول: والدلیل دلیل ان لا حصر بل کل لفظ یدل علی التبری عنھا والتخلی و الانقطاع وترك الاشتغال بھا فھو مما یحتمل المعنی المذکور کما لایخفی۔ |
بجائے انہوں نے"میں تجھ سے الگ ہوں"ذکر کیا،یوں کل چھ الفاظ ہوئے،ان کی وجہ یہی ہے کہ گالی ہونے کا احتمال رکھتے ہیں"تومیری ملك نہیں"یعنی تو اس قابل نہیں کہ میری ملکیت کےلئے منسوب ہو،"میرا تجھ پر چارہ نہیں"یعنی تیری بداخلاقی اورتیرے شر کی وجہ سے،"میں نے تیرا راستہ کھول دیا"یعنی میں تجھ سے جدا ہوا،"تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا"،"تیر ی رسی تیرے کندھے"یعنی تو ایسی بد ہے کہ کوئی تجھے تربیت نہیں دے سکتا کیونکہ باربار سمجھانے کی کسی میں طاقت نہیں ہے اھ،اقول:(میں کہتا ہوں)مذکور بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ان الفاظ میں حصر نہیں بلکہ جو الفاظ بھی براءت، علیحدگی، انقطاع اور بیوی سے ترك تعلق پر دلالت کریں وہ تمام گالی بننے کا احتمال رکھتے ہیں،جیسا کہ مخفی نہیں(ت) |
درمختار میں ہے:
|
القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما، مجتبٰی [2]۔ |
مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد خاوند بیان دے کہ طلاق کی نیت نہ کی تھی،تو اس کی تصدیق کردی جائے گی،اور اس معاملہ میں بیوی کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے اور اگر خاوند اپنے بیان سے متعلق گھر میں قسم نہ کھائے بلکہ انکار کردے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرے اگر حاکم کے مطالبے پر بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر حاکم میاں بیوی میں علیحدگی کا فیصلہ دے دے،مجتبٰی۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فان نکل ای عند القاضی لان |
اگر قاضی کے ہاں قسم سے انکار کرے تو تفریق کرے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع