30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام شمس الائمہ سرخسی مبسوط میں فرماتے ہیں:
|
قیل ان الضحاك ولدتہ امہ لاربع سنین،وولدتہ امہ لاربع سنین،وولدتہ بعد مانبتت ثنیتاہ وھو یضحك فسمی ضحاکاوعبدالعزیز الماجشونی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولدتہ امہ لاربع سنین وھذہ عادۃ معروفۃ فی نساء ماجشون رضی اﷲ تعالٰی عنہم انہن یلدن لاربع سنین[1]۔ |
یعنی منقول ہوا کہ امام مفسر محدت ضحاك چار برس ماں کے پیٹ میں رہے،پیداہوئے تو اگلے چاروں دانت نکل چکے تھے،ہنستے معلوم ہوتے تھے اس لئے ضحاك نام رکھا گیا(یعنی بہت ہنسنے والے)،اور امام محدث عبدالعزیز ماجشونی بھی چار برس حمل میں رہے،اور بنی ماجشون کی عورتوں کی یہ عادت مشہور ہے کہ بچہ ان کے پیٹ میں چار برس رہتا ہے۔ |
شوہر زن کا کہنا ہے کہ وہ بچہ میرا نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں،اس لفظ اخیر میں اگر لفظ اول کے خلاف اس کی ضمیر بچے کی طرف ہے جب تو ظاہر کہ اسے طلاق سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مثل اول ضمیر عورت کی طرف ہے تو یہ لفظ کنایات طلاق سے ہے اور وہ محتمل سَبّ و ذم ہے یعنی میں ایسی عورت سے بیزار ہوں اور حالت حالت غضب ہے تو بے اقرار شوہر نیت طلاق کا ثبوت نہ ہوگا اس سے قسم لی جائے اگر بحلف کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ نہ نیت ازالہ علاقہ نکاح نہ کہا تھا تو طلاق نہ ہوئی اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے،مبسوط امام شمس الائمہ میں ہے:
|
انت بائن حرام بتۃ خلیۃ بریۃ تحتمل معنی السب ای انت بائن من الدین بریۃ من الاسلام خلیۃ من الخیر حرام الصحبۃ والعشرۃ بتۃ عن الاخلاق الحسنۃ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ الحق بھٰذہ الالفاظ اربعۃ الفاظ اخر خلیت سبیلك فارقتك لاسبیل لی علیك لاملک |
اگر خاوند بیوی کو کہے"تو بائن ہے،حرام ہے،دور ہے،خالی ہے،بری ہے"تو یہ الفاظ محتمل معنی سب وذم ہیں یعنی تو دین سے الگ ہے،تو اسلام سے بری ہے،خیر سے خالی ہے،صحبت وعشرت سے محروم ہے،اخلاق حسنہ سے دور ہے(لہذا یہ الفاظ مذکورہ معانی کی وجہ سے گالی بن سکتے ہیں اس لئے طلاق کی نیت کئے بغیر طلاق نہ ہوگی)امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انہوں نے ان پانچ الفاظ پر مزید چار الفاظ ذکر فرمائے(جن میں گالی کا احتمال ہونے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع