30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقال لہ معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان کان لك علیھا سبیل فلاسبیل لك علی مافی بطنھا،فترکہا حتی ولدت ولداقد نبتت [1]الخ فالفراش قد کان قائما حین ھم برجمھا وھو لایحتاج الی الدعوۃ فالصواب ان یشاء اﷲ تعالٰی ان ذٰلك قد یقع بغایۃ الندرۃ والعبرۃ فی الفقہ الغالب فافھم، ثم بعد سویعۃ رأیت وﷲ الحمد الامام السرخسی رحمہ اﷲ تعالٰی صرح فی مبسوطہ بما سبق الیہ خاطر الفقیر اذقال بعد ذکر الحدیث المذکور والاحکام تبتنی علی العادۃ الظاہرۃ وبقاء الولد فی بطن امہ اکثر من سنتین فی غایۃ الندرۃ[2]۔ |
کرنے کاقصد فرمایا تو ان سے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کیا کہ اگرچہ آپ کو اس عورت پر قدرت ہے مگر اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کی قدرت نہیں،تو اس پر عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورت کو چھوڑدیا حتی کہ اس عورت نے ایسے بچے کو جنم دیا جس کے دانت نکل چکے تھے الخ تو جب حضرت عمر فاروق نے اس عورت کے رجم کا ارادہ فرمایا تو اس وقت اس کا نکاح موجودتھا،تو ایسی صورت میں نسب کا دعوٰی کی ضرورت نہیں،تو درست یہی ہے۔اگر اﷲ تعالٰی نے چاہا کہ ایسا واقعہ انتہائی نادر ہوتا ہے۔جبکہ فقہ میں کثیر الوقوع کا اعتبار کیا جاتا ہے،اس پر غور کرو۔ پھر تھوڑی دیر بعد ﷲ الحمد میں نے امام سرخسی کا نقل کردہ کلام دیکھا کہ آپ نے اپنی مبسوط میں اسی بات کی تصریح فرمائی جو میرے دل پر وارد ہوئی تھی،جب انہوں نے مذکورہ حدیث اور کچھ ایسے واقعات جن کا ذکر آرہا ہے،کو بیان کرکے فرمایا ہمارے لئے احکام ظاہر عادت پر مبنی ہیں،جبکہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زائد عرصہ بچے کا رہنا انتہائی نادر واقعہ ہے۔ (ت) |
دارقطنی وبیہقی اپنے اپنے سنن میں ولید بن مسلم سے راوی امام دار الہجرۃ عالم المدینہ سید ناامام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
|
ھذہ جارتنا امرأۃ محمد بن عجلان امرأۃ صدق و زوجھا رجل صدق حملت ثلثۃ ابطن فی اثنی عشرۃ سنۃ کل بطن فی اربع سنین[3]۔ |
یہ ہیں ہماری ہمسائی محمد بن عجلان کی بی بی،یہ سچی عورت اور وہ سچے مرد،ان کے تین حمل بارہ١٢ برس میں ہوئے،ہرحمل چار سال میں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع