30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ بچہ شرعًا بلاشبہہ اسی شوہر کا ہے اسے اس کا انکار جائزنہیں پونے تین در کنار تیس چالیس برس سے دونوں الگ ہوتے جب بھی بچہ اسی کا ہوتا۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الولد للفراش وللعاھر الحجر[1]۔ |
بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی کےلئے محرومی ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
قد اکتفوابقیام الفراش بلا دخول کتزوج المغربی بمشر قیۃ بینھما مسافۃ سنۃ فولدت لستۃ اشھر مذتزوجھا لتصور کرامۃ واستخدامًا،فتح٢[2]۔ |
فقہاء کرام نے ثبوت نسب میں نکاح موجود ہونے کو کافی قرار دیا اگرچہ جماع نہ پایاجائے،جیسے کوئی مغرب میں رہنے والا شخص مشرق میں رہنے والی عورت سے نکاح کرے اور دونوں کے درمیان سال بھر کی مسافت ہوا ور اس عورت کے ہاں وقتِ نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوتو نسب نکاح والے کا ہوگا کیونکہ کرامت اور استخدام کے طور پر یہ ممکن ہے اور متصور ہے،فتح۔(ت) |
ہمارے ائمہ نے اکثرمدت حمل دو سال رکھی ہے کہ غالب یہی ہے اور فقہ میں غالب ہی کا اعتبار ہے نادر خصوصًا ایسا کہ صدہا سال کروڑوں ولادتوں میں اس کا خلاف نہ مسموع ہو لحاظ نہیں کیا جاتا،امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عہد مبارك میں ایك صاحب اپنی زوجہ کو وطن میں چھوڑ کر سفر کو گئے دو برس بعد واپس آئے تو عورت کو حاملہ پایا ایك مدت بعد بچہ ہوا قد نبتت ثنیتاہ یشبہ اباہ اس کے اگلے چاروں دانت پیٹ ہی سے نکل چکے تھے صورت میں اپنے باپ سے مشابہ تھا فلمارأہ الرجل قال ولدی ورب الکعبۃجب ان صاحب نے اس بچے کو دیکھا کہا خدا کی قسم میرا بچہ ذکرہ فی الفتح،وقال انما ھو بقیام الفراش ودعوی الرجل نسبہ [3]اھ(اس کو فتح میں ذکرکیا ہے،اور فرمایا یہ تب ہے کہ نکاح موجود ہو اور زوج نسب کا دعوٰی کرے اھ۔ت)
|
اقول: فی صدر الحدیث ان عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھم برجمھا |
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)حدیث کے شروع میں ہے کہ عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس عورت کو رجم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع