30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گزرجانے کا اقرار کر چکی ہو اس کے چھ مہینے بعد بچہ پیدا ہوا جب بھی ہرگزاس شوہر مردہ کا نہ ٹھہرے گا۔درمختار میں ہے:
|
لواقرت بمضیھا بعد اربعۃ اشھروعشرا فولاد تہ لستۃ اشھرلم یثبت لاحتمال حدوثہ بعد الاقرار[1] (ملخصًا) |
اگر عورت موتِ زوج کے وقت سے چار ماہ دس دن عدت گزرنے کا اقرار کرے پھر وقت اقرار سے پورے چھ ماہ میں بچہ کو جنم دے تو بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ احتمال ہے کہ حمل کا حدوث اقرار کے بعد ہواہو۔(ت) |
نماز کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ایك دعا پڑھنا حدیث میں آیا ہے کارڈ میں دعا لکھنے کی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٢٥: از پیلی بھیت مرسلہ عثمان صاحب معرفت مولوی عبدالحق صاحب ٢٢شوال ١٣٣٦ھ
ہندہ سے اس کے شوہر نے پونے تین سال سے قربت نہیں کی اور اس زمانہ میں پونے تین سال ہندہ اپنے باپ کے یہاں رہی اور اس صورت میں کہ میکے میں سوائے باپ کے اور کوئی اس کا رشتہ دار نہیں تھا اور ماں بھی اس کی نہیں تھی اور نہ کوئی عورت اور اس کے پاس تھی،اب پونے تین سال کے بعد اس کے بچہ پیدا ہوا،ہندہ حلف سے اور قسم سے کہتی ہے کہ بچہ میرے شوہر کا ہے جس طرح چاہے اطمینان کرلو،اس زمانہ پونے تین سال میں اپنے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو یا اپنے ماں با پ کے رشتہ داروں کو مطلع نہیں کیا حالانکہ دونوں طرف بچہ ہونے کی کمال تمنا تھی کیونکہ اس کے شوہر کی دوسری بی بی سے بھی نیز اس سے اور کوئی اولاد نہ تھی،ہندہ کہتی ہے کہ مجھ کو دو ڈھائی مہینے سے آثارِ حمل کچھ ظاہر ہوئے میں نے بوجہ اپنی سوت کے کسی سے اظہار نہیں کیا کہ مبادا سوت درپے آزار ہو مگر میں نے اپنے شوہر کو نیز اپنی چچی کو بلایا وہ میرے پاس نہیں آئی بچہ باپ کے یہاں پیدا ہوا،چوتھے روز شوہر کو بذریعہ تحریر مطلع کیا،ہندہ نے یہ بھی اپنی چچی سے کہا میری بینائی میں فرق آگیا ہے اور میراجسم اکثرپکتا ہے،یہ اس کی حالت تھی،یہ اس کی چچی کا بھی بیان ہے اور ایام بھی بند تھے مگر گاہے کچھ معلوم ہو کر بند ہو جاتا تھا،جب ہندہ اور اس کے باپ نے بذریعہ تحریر شوہر کو اطلاع دی مولود کی،تب شوہر نے حالتِ غم میں اس کا جواب تحریری بھیجا کہ عرصہ سے میرا اس سے تعلق نہیں لہذاوہ بچہ میرا نہیں ہے اور میرا اس سے تعلق نہیں ہے۔اس کا جواب عباراتِ فقہاء واحادیث وتمثیلات سے فرمایا جائے،فقط۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع