30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوقت اھ[1] استظہرہ فی البحر،وقال یجب حمل کلامھم علیہ کما یفھم من غایۃ البیان وتبعہ فی النھروالشرنبلالیۃ انتہت ملتقطًا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہوگا اھ اس کو بحر میں ظاہر قرار دیا،اور کہا کہ فقہاء کے کلام کو اس معنی پر محمول کرنا ضروری ہے جیسا کہ غایۃ البیان سے سمجھا جارہا ہے،اور نہر اور شرنبلالی میں اس کی پیروی کی ہے انتہت ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٢١تا١٢٤: از کوہ منصوری ڈاکخانہ کلہڑی کام اپر انڈیاگیٹ مرسلہ کلیم اﷲ صاحب ٣٠جمادی الاولیٰ ١٣٣٦ھ
۱ کتاب بہشتی زیور میں حصہ چہارم میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند مرجائے اور ایك دن کم دو سال کے اندر بچہ پید اہوتو وہ مرحوم خاوند کا مانا جائے گا،یہ مسئلہ شرع محمدی یا طب یا ڈاکٹری سے تحقیق ہے،یہ جائز ہے یاناجائز؟ اور اگر جائز ہے تو کب سے ہے؟یاکہ پرانا مسئلہ ہے یااولیائے کرام سے جائز ہے؟
۲دوسرے یہ کہ چار مہینے دس دن جو شرع سے قائم ہیں بعد عدت سے نکاح کرے تو بعد کوایك سال یا ٩مہینے کے بچہ پیداہوا تو پہلے خاوند کا ماناجائے گا یا ب جس سے نکاح ہوااس کا؟
۳تیسرے یہ کہ وہ بچہ کونسی حق ملکیت میں مستحق ہوگا پہلے باپ کی ملکیت میں یادوسرے کی؟
۴چوتھے یہ کہ بعض امام سلام پھیر کر سر پر ہاتھ رکھتے ہیں تو کس مصلحت سے رکھتے ہیں؟
الجواب:
کتاب بہشتی زیور نہ دیکھا کیجئے،اس کا دیکھنا حرام ہے،اس میں بہت سے مسائل غلط اور بہت باتیں گمراہی کی ہیں اس کے مصنف کو تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام لے کر لکھاہے من شك فی کفرہ فقد کفر [2]جواس شخص مذکور کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
یہ مسئلہ یوں ٹھیك نہیں بلکہ اگر چار مہینے دس دن عدت کے گزارکر عورت نکاح کرلے اور نکاح سے چھ مہینے بعدبچہ پیدا ہو کہ موتِ شوہر سے دس مہنیے دس ہی دن بعد ہوا ہر گز پہلے شوہر کا نہ ٹھھرے گا بلکہ اسی دوسرے کا ہے پہلے شوہر کے ترکہ سے اسے کچھ نہ ملے گا،یہ دوسراشخص ہی اس کا باپ ہے اگر یہ مرے گا تو وہ بچہ اس کا وارث ہوگا بلکہ اگر عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ بھی کرے صرف اتنا ہوکہ چار ماہ دس دن بعد وہ اپنی عدت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع