30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رجعۃ لوفی الاکثر منھما اولتمامھما لعلوقھافی العدۃ (فیصیر فـــــ بالوطء مراجعا نھر)لافی الاقل للشك (فان اقرت بانقضائھا والمدۃ تحتملۃ بان تکون ستین یوما علی قول الامام وتسعۃ وثلثین علی قولھما ثم جاءت بولد لایثبت نسبہ الا اذاجاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر من وقت الاقرار فانہ یثبت نسبہ للتیقن بقیام الحمل وقت الاقرار فیظھر کذبھا، وکذاھذافی المطلقۃ البائنۃ والمتوفی عنھا اذا ادعت انقضائھا ثم جاءت بولد لتمام ستّۃ اشھر لایثبت نسبہ،ولاقل یثبت کما یثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ(یشمل البت بالواحدۃ والثلاث تزوجھا فی العدۃ اولابحر)جاءت بہ لاقل منھما من |
عورت نے عدت ختم ہونے سے پہلے اقرار نہ کیا ہو اور بچے کی ولادت کو خاوند کا رجوع قرار دیا جائے گا اگر مطلقہ رجعی دوسال یا دو سال کے بعد بچہ جنم دے کیونکہ ممکن ہے کہ استقرار حمل عدت میں ہوا ہو(لہذا خاوند وطی کے ساتھ رجوع کرنے والا قرار پائے گا،نہر)اور دوسال سے کم مدت میں پیدائش ہوتو شك کی بناپر خاوند کا رجوع ثابت نہ ہوگا(کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حمل طلاق سے پہلے کا ہو)پھر اگرعورت نے عد ت ختم ہونے کا اقرار کرلیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے ختم ہونے کا احتمال رکھتی ہو مثلًا امام اعظم کے قول پر ساٹھ دن اور صاحبین کے قول پر انتالیس٣٩ دن گزرچکے ہیں پھر اس اقرار کے بعد بچہ کو جنم دے تو اس صوت میں بچے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت نہ ہوگا مگر جبکہ اقرار کے وقت سے چھ ماہ کے اندر بچہ جنم دے تو نسب اسی سے ہی ثابت ہوگا کیونکہ اب یقینا اقرار کے وقت وہ حاملہ تھی تو اس سے عورت کا اقرار جھوٹا ثابت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوا ہو جب وہ عدت ختم ہوجانے کادعوٰی کرے پھر دعوٰی کے چھ ماہ بعد بچہ کو جنم دے تو یہ نسب بھی پہلے خاوند کا نہ ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت ہوتو احتیاطًا نسب پہلے خاوند کا ہوگا جیسا کہ بغیر دعوٰی بھی بائنہ طلاق والی میں نسب ثابت ہوتاہے(خواہ ایك طلاق یاتین طلاق سے بائنہ ہوئی ہو اور اس نے عدت میں دوسرے سے نکاح کیا یانہ کیا ہو،بحر)بشرطیکہ اس نے طلاق سے دو سال کے اندر |
فـــــ:قوسین کے درمیان والی عبارت ردالمحتار کی ہے جبکہ قوسین سے باہر والی عبارت تنویر اور درمختار کی ہے۔نذیر احمد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع